اسرائیل کی حراست میں آنے والے غزہ فلوٹیلا کے کارکنان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟

اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے مطابق حراست میں لیے گئے کارکنوں کو ملک بدر کرنے سے پہلے اسرائیل منتقل کیا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی افواج نے غزہ کی جانب جانے والی امدادی کشتیوں کو روک لیا جو بین الاقوامی سرگرم کارکنوں کی جانب سے اسرائیلی محاصرہ توڑنے اور امداد پہنچانے کی تازہ ترین کوشش تھی۔ اس سرگرمی میں شریک 500 کے قریب پارلیمانی اراکین، وکلاء اور کارکنان شامل ہیں جن کو قانونی کارروائی کا سامنا ہو گا۔ یہ افراد 40 سے زائد شہری کشتیوں پر مشتمل بحری بیڑے "گلوبل صمود فلوٹیلا" کا حصہ تھے۔

اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے مطابق زیر حراست کارکنان کو اسرائیل منتقل کرنے کے بعد بے دخل کیا جائے گا، جیسا کہ ماضی میں بھی کیا جا چکا ہے۔ حراست میں لیے جانے والوں میں سویڈن سے تعلق رکھنے والی ماحولیاتی خاتون کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں۔

حالیہ بحری بیڑے کے شرکاء کی شناخت اور بے دخلی سے قبل کے انتظامات انسانی اور قانونی حقوق کی ایک اسرائیلی تنظیم "جسٹس سینٹر" کے ذریعے کیے جا رہے ہیں۔ مرکز کی قانونی ڈائریکٹر سہاد بشارہ کے مطابق حراست میں لیے گئے کارکنان پہلے اسدود بندرگاہ پہنچیں گے، جہاں ان کی شناخت کی جائے گی اور پھر انھیں امیگریشن حکام کے حوالے کیا جائے گا تاکہ ممکنہ بے دخلی کے لیے تیاری کی جا سکے۔ ان افراد کو ممکنہ طور پر جنوبی اسرائیل میں واقع کتیسیعوت جیل میں رکھا جائے گا۔ بشارہ نے کہا کہ "ہماری ترجیح ان کی صحت، سلامتی اور قانونی مشورے کی دستیابی ہے۔"

بین الاقوامی ماہر قانون اومیر شاتس کے مطابق ... کتیسیعوت جیل سخت سکیورٹی والی ہے اور عام مہاجرین کے لیے نہیں، لیکن 500 افراد کو رکھنے کے لیے یہ سہولت استعمال کی جا رہی ہے۔

اسرائیلی "جسٹس سینٹر" نے اپنے بیان میں کہا کہ ماضی میں مشاہدہ کیا گیا کہ حراست میں لیے جانے والے کارکنان مختصر عرصے کے بعد بے دخل کیے جاتے رہے ہیں۔ تاہم اسرائیلی حکام جن میں قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گوئیر بھی شامل ہیں، انھوں نے حالیہ تجاویز میں طویل حراست کے امکانات پر غور کیا ہے۔ مرکز نے خدشہ ظاہر کیا کہ نئے بیڑے کے شرکاء کو سابقہ افراد کے مقابلے میں سخت برتاؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے مطابق بحریہ نے بیڑے کو خبردار کیا تھا کہ وہ ایک فعال جنگی علاقے میں داخل ہو رہا ہے اور قانونی سمندری محاصرہ توڑ رہا ہے۔ مزید یہ کہ منتظمین سے راستہ بدلنے کی درخواست کی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size