نیتن یاہو کا مروان برغوثی کو رہا نہ کرنے کا عزم ... ذرائع نے تصدیق کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

حماس اور اسرائیل کے وفود آج پیر کو مصر کے شہر شرم الشیخ میں قیدیوں کے تبادلے اور اسرائیلی افواج کے غزہ سے انخلا کی عملی تفصیلات پر بات چیت کریں گے۔ یہ اقدامات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے ابتدائی مرحلے کا حصہ ہے۔ ادھر اسرائیلی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گوئیر سے ملاقات میں اس بات کا عہد کیا کہ فلسطینی رہنما مروان برغوثی کو غزہ سمجھوتے کے تحت کسی صورت رہا نہیں کیا جائے گا۔ یہ بات اسرائیلی ٹی وی "چینل 14" نے بتائی۔

ذرائع کے مطابق بن گوئیر نے گزشتہ شب بیت المقدس میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران نیتن یاہو کے سامنے متعدد مطالبات رکھے، تاکہ منصوبے پر عمل درآمد کی صورت میں اپنی پوزیشن واضح کر سکیں۔

ملاقات میں شریک اسرائیلی ذرائع نے انکشاف کیا کہ نیتن یاہو نے واضح طور پر کہا کہ جنھیں وہ "دہشت گردی کی علامتیں" قرار دیتے ہیں، انھیں کسی بھی مرحلے میں اس معاہدے میں شامل نہیں کیا جائے گا، ان میں سرفہرست مروان برغوثی ہے۔

عملی آزادی

اس کے علاوہ بن گوئیر اور وزیر خزانہ بیتسلئیل سموٹرچ، جو ملاقات میں شریک تھے ... نے یہ جاننا چاہا کہ یرغمالیوں کی واپسی کے بعد بھی اسرائیلی فوج کی حماس کے خلاف کارروائیوں کی صلاحیت کیسے برقرار رہے گی۔

اس پر نیتن یاہو نے جواب دیا کہ اسرائیلی فوج کو غزہ میں "مکمل آزادیِ عمل" حاصل ہو گی، اور اگر سمجھوتے کی خلاف ورزی ہوئی تو وہ ان علاقوں میں دوبارہ داخل ہو سکے گی جہاں سے وہ انخلا کرے گی۔

یاد رہے کہ مروان برغوثی اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کے "سرکردہ رہنماؤں" میں شمار ہوتے ہیں۔ انھیں 2002 میں گرفتار کیا گیا تھا اور پانچ بار عمر قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

حماس نے گزشتہ سال قیدیوں کے تبادلے سے متعلق مذاکرات کے مراحل میں برغوثی کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا، لیکن گزشتہ ماہ (ستمبر 2025) صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے اعلان کے بعد ان کا نام دوبارہ نہیں لیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں