اسرائیلی جنگی طیاروں نے پیر کے روز جنوبی لبنان کے علاقوں العیسیہ اور الجرمق پر تین فضائی حملے کیے۔ یہ بات قومی خبر رساں ایجنسی نے بتائی۔
ادھر ایک اسرائیلی ڈرون نے بیروت اور جنوبی مضافات "الضاحیہ الجنوبیہ" کے اوپر انتہائی نچلی پرواز بھی کی، جس کے باعث شہر کے مختلف حصوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب 27 نومبر سے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ نافذ ہے، جو ایک سال طویل خون ریز تصادم کے بعد امریکی اور فرانسیسی ثالثی سے طے پایا تھا۔
معاہدے کے مطابق، حزب اللہ کو جنوبی لبنان کے دریائے لیطانی کے جنوب میں واقع علاقوں (یعنی سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر دور) سے پیچھے ہٹنا اور اپنے عسکری ڈھانچے کو ختم کرنا تھا، جبکہ ہتھیار رکھنے کا اختیار صرف ریاستی اداروں تک محدود کیا گیا تھا۔
تاہم اسرائیل نے نہ صرف فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں بلکہ جنوبی لبنان کی پانچ پہاڑی چوٹیوں پر اپنی فوجی موجودگی بھی برقرار رکھی ہے، حالانکہ معاہدے میں ان تمام علاقوں سے مکمل انخلا کی شرط شامل تھی جہاں وہ جنگ کے دوران داخل ہوئی تھی۔
ادھر لبنانی حکومت نے اگست میں امریکی دباؤ کے تحت حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس مقصد کے لیے لبنانی فوج نے ہتھیار جمع کرنے کے پانچ مرحلوں پر مشتمل ایک منصوبہ تیار کیا۔ تاہم تہران کی حمایت یافتہ حزب اللہ نے اس فیصلے کو سختی سے مسترد کر دیا۔
-
غزہ میں بنک دوبارہ کھل گئے مگر کیش کے بغیر
فلسطینی شہری غزہ میں اپنی زندگیوں کو نئے سرے سے کھڑا کرنے کی کوشش میں ہیں۔ تاکہ ...
بين الاقوامى -
غزہ منصوبے کے دوسرے مرحلے پر بات چیت کے لیے وٹکوف اور کشنر تل ابیب میں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کا ...
بين الاقوامى -
"جو خبردار کر دیا گیا وہ خود ذمے دار ہے" ... غزہ میں گرائے گئے اسرائیلی پمفلٹ
اگرچہ اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ ...
مشرق وسطی