غزہ سے تین لاشیں وصول کرنے کے بعد... اسرائیل کی خان یونس پر بم باری
فوجی ذریعے کا غالب گمان ہے کہ غزہ سے حاصل ہونے والی تینوں لاشیں یرغمالیوں کی نہیں ہیں
العربیہ اور الحدث کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل نے ہفتے کو غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر کے علاقے خان یونس کے مشرقی حصے پر بم باری کی۔
اسی دوران اسرائیلی افواج نے غزہ شہر کے مشرق میں رہائشی عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانے اور تباہ کرنے کی کارروائیاں جاری رکھیں، جبکہ علاقے کی فضاؤں میں ڈرون طیاروں کی بڑی تعداد مسلسل پرواز کر رہی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیل نے بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے ذریعے غزہ سے تین نا معلوم لاشیں وصول کی ہیں۔
مراسل العربية: قصف إسرائيلي استهدف شرقي خان يونس جنوبَ قطاع غزة#قناة_العربية pic.twitter.com/aEAKY8I7gr
— العربية (@AlArabiya) November 1, 2025
فرانسیسی خبر رساں ادارے "فرانس پریس" سے بات کرتے ہوئے ایک اسرائیلی فوجی ذریعے نے کہا کہ غالب امکان ہے کہ یہ لاشیں یرغمالیوں کی نہیں ہیں۔ ان کے مطابق لاشوں کو شناخت کے لیے فرانزک لیبارٹری منتقل کر دیا گیا ہے۔
جمعے کو ملی ان تین لاشوں کے علاوہ حماس اب تک اپنے قبضے میں موجود 28 یرغمالیوں میں سے 17 کی لاشیں واپس کر چکی ہے۔ ان کو جنگ بندی کے آغاز پر لوٹایا جانا تھا لیکن حماس کا کہنا ہے کہ باقی لاشوں کے مقامات کا تعین کرنا مشکل ہے۔
اس ماہ جنگ بندی کے آغاز کے بعد حماس نے اپنے قبضے میں موجود 20 زندہ یرغمالیوں کو رہا کر دیا تھا اور ہلاک شدہ افراد کی لاشیں واپس کرنے کا عمل شروع کیا تھا۔
لاشوں کی واپسی میں بار بار تاخیر پر اسرائیلی حکومت نے شدید غصے کا اظہار کیا ہے اور حماس پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ یرغمالیوں کے اہلِ خانہ نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ حماس کو معاہدے پر عمل درآمد پر مجبور کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔
ابھی تک 10 ایسے یرغمالیوں کی لاشیں غزہ میں موجود ہیں جو 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے دوران اغوا کیے گئے تھے، اس کے علاوہ ایک اسرائیلی فوجی کی لاش بھی موجود ہے جو 2014 کی جنگ میں مارا گیا تھا۔
دوسری جانب حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ فلسطینیوں کا باہمی اتحاد خطرات سے نکلنے کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اندرونی اتحاد کوئی اختیار نہیں بلکہ فرض ہے۔
اس بیان کے بعد فتح تحریک کا رد عمل فوراً سامنے آیا۔ فتح کے ترجمان منذر الحائک نے زور دے کر کہا کہ حماس کو یا تو علیحدگی کا راستہ اختیار کرنا ہوگا یا قومی وحدت کا۔
فتح نے یہ بھی کہا کہ قومی اتحاد کا راستہ صرف اس وقت ممکن ہے جب حماس قانونی اتھارٹی کو تسلیم کرے اور غزہ میں انتظامی کمیٹی کو فلسطینی اتھارٹی کے ماتحت مانے۔
-
غزہ جنگ بندی ختم ہونے کے حوالے سے خدشات ہیں، بات چیت جاری ہے: ترکیہ
پیر کو استنبول میں غزہ سے متعلق اجلاس میں عرب اور مسلم وزرائے خارجہ شرکت کر رہے ...
مشرق وسطی -
بین الاقوامی ریڈ کراس کے کارکن غزہ و سوڈان میں مسلسل نشانے پر ہیں: ڈائریکٹر ریڈ کراس کمیٹی
بین الاقوامی ریڈ کراس کی کمیٹی کے ڈائریکٹر نے بتایا ہے کہ ریڈ کراس کے کارکنوں کو ...
بين الاقوامى -
غزہ: بنکوں کے دروازے کھل گئے مگر کرنسی نایاب
غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ کے اعلان کو 21 دن سے زائد گزرنے کے باوجود صورتحال ابھی ...
مشرق وسطی