حماس کے خوفناک حملے کی اسرائیلی نظام کے تحت انکوائری کے لیے کمیشن بنایا جائے : فوجی سربراہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیلی ریاست کے فوجی سربراہ ایال زامیر نے سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے بہت بڑے اور تباہ کن حملے کی سسٹم کے اندر رہتے ہوئے تحقیقات پر زور دیا ہے۔ تاکہ اسرائیلی سیکیورٹی اداروں کی اس ناکامی کی وجوہات تلاش کی جا سکیں اور حماس کی اس حملے میں کامیابی کا جائزہ لیا جا سکے۔

جنرل ایال زامیر نے یہ بات پیر کے روز کی ہے۔ ان کا یہ موقف اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی ریاست کی حکومت نے اپنے قدم ایک ریاستی انکوائری کمیشن کی طرف گھسیٹے ہیں۔ یاد رہے کہ دو سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اسرائیلی ریاست کوئی جامع تحقیقات کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔

جنرل ایال زامیر کا یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ایک ماہر انکوائری کمیٹی کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ اس کمیٹی کو ایال زامیر نے ہی قائم کیا تھا۔ اس کمیٹی نے فوج کے اندر اس معاملے میں ایک انکوائری کے لیے کہا ہے ۔ تاکہ اسرائیلی فوج کی اندرونی کمزوریوں کا جائزہ ہو سکے۔

ایال زامیر نے اس ماہر کمیٹی کی رپورٹ پر کہا ہے کہ یہ رپورٹ اسی قدم کے طور پر سامنے آئی ہے جس کی اسرائیلی سوسائٹی اور فوجی ادارے کو ضرورت تھی۔

آرمی سربراہ نے کہا تاہم یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ اس طرح کا واقعہ پھر کبھی نہ ہو سکے۔ اس کے لیے وسیع تر تناظر میں چیزوں کو سمجھنا ہوگا۔ ابھی تک فوج کی تنظیم کے اندر بھی جائزہ لیا جائے کیونکہ یہ ابھی تک نہیں لیا جا سکا ہے۔

اب تک کے مرتب کرائے گئے جائزوں کے مطابق اسرائیلی آبادی کی ایک بڑی تعداد تحقیقات کی ضروت محسوس کرتی ہے۔ تاکہ سات اکتوبر کے حماس حملے کو روکنے میں ناکامی کےذمہ داروں کا تعین ہو۔ مگر نیتن یاہو حکومت نے ملکی تاریخ کے اس مہلک حملے کے لیے کمیشن قائم کرنے سے عملاً انکار ہی کر رکھا ہے۔ اس کا ایک عذر یہ پیش کیا جاتا رہا کہ غزہ میں ابھی جنگ جاری ہے اور اس ماحول میں انکوائری سے منفی اثرات ہوں گے۔

یاد رہے اسرائیلی قانون کے تحت انکوائری کمیشن حکومت کے فیصلے پر بنتا ہے مگر اس کے ارکان کا تعین کرنے کا اختیار عدلیہ کے پاس ہے۔ اتفاق سے عدلیہ سے حکومت خوش نہیں ہے۔

حتیٰ کہ نیتن یاہو کی حکومت عدالت پر سیاسی تعصب اور بائیں بازو کی طرف جھکاؤ کا الزام بھی عائد کرتی ہے۔ اسی لیے عدالتی اختیارات پر قدغن کی کوشش حکومتی منصوبے میں شامل ہے۔

نہ صرف یہ بلکہ جب اپوزیشن نے پیر کے روز کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا تو نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ یہ حکومت کے خلاف سیاسی دباؤ کی ضرورت کے تحت کہا جار ہا ہے۔ اس لیے نیتن یاہو نے ایسے انکوائری کمیشن کے لیے وسیع تر قومی اتفاقِ رائے کے بعد بنانے کی تجویز دی۔ یہ وسیع تر قومی اتفاقِ رائے نیتن یاہو نے جنگ کو جاری رکھنے کے لیے کبھی ضروری قرار نہیں دیا تھا۔ جیسا کہ نائن الیون کے فوری بعد امریکہ میں کمیشن قائم کیا گیا تھا۔

یاد رہے ماہ فروری میں اسرائیلی فوج کی ایک اندرونی انکوائری میں یہ تسلیم کیا گیا تھا کہ سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے سامنے اسرائیلی فوج اور سیکیورٹی ادارے مکمل ناکام رہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں