سعودی عرب : العُلا میں ہزاروں نقوش کو دستاویزی شکل دینے والا تحقیقی منصوبہ

یہ منصوبہ دریافت شدہ زبانوں اور تحریروں کے تنوع کو اجاگر کرتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب میں العُلا روئل کمیشن نے ایک جامع تحقیقی منصوبہ شروع کیا ہے جس العلا کے مختلف مقامات پر دریافت ہونے والے 25 ہزار سے زائد نقوش کا تجزیہ اور دستاویزی ریکارڈ تیار کرنا ہے، جو لوہے کے دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ اقدام ثقافتی ورثے کے تحفظ اور شمال مغربی جزیرہ عرب میں تحریری تاریخ کے علمی مطالعے کو سہارا دینے کے لیے کیا گیا ہے۔

منصوبے کے تحت نقوش کا ڈیجیٹل ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا، جس میں لسانی تجزیہ،3-D اسکیننگ اور تاریخی و ثقافتی سیاق و سباق سے رابطہ شامل ہو گا تاکہ زبانوں اور تحریری اسالیب کی ترقی اور قدیم معاشروں کے العلا کے ساتھ معاملے کا علم بڑھایا جا سکے۔

العلا میں دریافت شدہ 10 مختلف زبانیں اور تحریری اسلوب اس علاقے کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں جو مختلف تہذیبوں کے ملاپ اور ثقافتی تبادلوں کا مرکز رہا ہے۔ جبل عکمہ ان میں نمایاں ہے جس میں دادانی اور شمالی جزیرہ عرب کی قدیم زبانوں کے نقوش شامل ہیں اور اسے 2023 میں یونیسکو کے "میموری آف دی ورلڈ" میں شامل کیا گیا۔

جبل اقرع میں حج کے تاریخی راستوں سے منسلک ابتدائی اسلامی عربی نقوش محفوظ ہیں جبکہ دادان اور الحجر کے درمیان راستے اور وادیاں، جیسے وادی ابو عود، قبائلی اور روزمرہ زندگی کے مناظر دکھاتے ہیں ... جس سے انسانی تعامل کا علم حاصل ہوتا ہے۔

اہم نقوش میں "نقش زہیر" شامل ہے جو چوبیسویں ہجری میں لکھا گیا اور ابتدائی عربی تحریر اور تہذیبی تبدیلیوں کی نمائندگی کرتا ہے۔

منصوبے میں آثار طلبہ کے لیے تربیتی پروگرامز اور معاشرتی آگاہی کی مہمیں بھی شامل ہیں۔ نتائج کو علمی اشاعتوں کے ذریعے تحقیقی اور تعلیمی مقاصد کے لیے پیش کیا جائے گا۔

اس اقدام سے العلا کی ثقافتی وراثت کے تحفظ، علمی معلومات کی فراہمی اور عالمی سطح پر قدیم زبانوں اور تہذیبوں کے مطالعے میں اہمیت مزید مستحکم ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں