سلامتی کونسل : غزہ میں بین الاقوامی فورس کی امریکی قرارداد پر ووٹنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ سے متعلق امریکی قرارداد پر ووٹنگ پیر کو رات گئے متوقع ہے۔ قرارداد غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی کے مینڈیٹ کے حوالے سے ہے جسے امریکہ اور عرب ممالک کے مبصرین فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف ایک راستہ قرار دے رہے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ اس قرارداد پر واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان کئی موضوعات پر اختلاف موجود ہے۔ 'العربیہ' نے مسودہ قرارداد کے بنیادی نکات حاصل کیے ہیں جن کے مطابق سب سے اہم نکتہ غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی ہے۔

قرارداد کے متن کے مطابق سلامتی کونسل سے اس امر کا بین الاقوامی استحکام فورس کے لیے مینڈیٹ حاصل کرنا ہے کہ وہ امرکی صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے پر عملدرآمد کروا سکے۔

مسودہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی استحکام فورس غزہ میں اسرائیلی فوج کے متبادل کے طور پر تعینات کی جائے گی۔

قرارداد میں ایک 'بورڈ آف پیس' کے نام سے عبوری حکومت کی تشکیل کے لیے بھی کہا گیا ہے جو غزہ میں 2027 کے اواخر تک معاملات کو دیکھے گی اور حکومتی انتظام و انصرام اس کے پاس ہوگا۔

'العربیہ' کے مطابق قرارداد کے متن میں اضافی طور پر ایک امن کمیٹی کے عبوری قیام کے لیے بھی سفارش کی گئی ہے۔ جس کی سربراہی صدر ٹرمپ کریں گے اور اسے دسمبر 2027 کے اختتام تک انتظامی اختیارات حاصل ہوں گے۔

مسودے میں جنگ بندی کو مضبوط کرنے کے لیے بھی سفارش کی گئی ہے۔ جس پر جنگ بندی معاہدے پر دستخط کرنے والے تمام ملکوں کو بھی ساتھ ملایا گیا ہے۔

فلسطینی ریاست کے لیے راستہ

قرارداد کی ایک اور شق میں یہ کہا گیا ہے فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات مکمل کر لی گئی ہیں۔ تاکہ غزہ میں ایسا ماحول پیدا کیا جا سکے جس میں قابل بھروسہ اقدامات کیے جا سکیں جو فلسطینیوں کے حق خودارادیت کے لیے ضروری ہوں اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ضروری ہوں۔

اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مکالمے کی راہ ہموار کرے گا۔ تاکہ ایک سیاسی منظر نامے کی تشکیل میں پر امن انداز سے مدد مل سکے۔ نیز دونوں کے لیے خوشحالی کے ساتھ رہنا ممکن ہو سکے۔

ایک شق میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ امن کونسل ایک عبوری انتظامیہ کے طور پر کام کرے گی۔ لیکن یہ عبوری حکومت نہیں ہوگی۔

'العربیہ' کے مطابق عبوری کا لفظ استعمال کیا گیا ہے کہ نظر ثانی شدہ مسودے میں نگرانی کے لیے اختیارات کا ذکر کیا جا سکے۔ غزہ میں کام کرنے والے ادارے اس اتھارٹی کے ماتحت کام کریں گے اور انہیں 'پیس کونسل' مانیٹر کرے گی جسے رضاکارانہ فنڈنگ کرنے والوں سے فنڈز کی دستیابی ہوگی۔ یہ فنڈز 'پیس کونسل' کی مشنیری چلانے اور حکومتی مدد کے لیے ہوں گے۔


اسرائیلی انخلاء

مسودہ قانون کی ایک شق اسرائیلی فوج کے غزہ سے انخلاء سے متعلق ہے۔ اس کے مطابق اسرائیلی فوج اس وقت اپنا انخلاء شروع کرے گی جب بین الاقوامی استحکام فورس اپنا کنٹرول اور استحکام پکا کر لے گی۔

اسرائیلی فورسز کا انخلاء ان معیارات کے ساتھ دیکھا جائے گا جو مراحل اور ٹائم ٹیبل کے متعلق ہوں گے اور غزہ میں حماس کے غیر مسلح ہونے کے عمل سے منسلک ہوں گے۔ اس پراسس پر اسرائیلی فوج اتفاق کرے گی۔

اس دوران بین الاقوامی فوج، ضامن ممالک اور امریکہ سیکیورٹی کے امور کے حوالے سے اپنی موجودگی کو گردوپیش میں موجود رکھیں گے۔

یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کوئی بھی ایسا نیا ابھرا ہوا دہشت گردانہ خطرہ نہیں ہوگا۔

'العربیہ' کے مطابق ترامیم کا تیسرا راؤنڈ جمعرات کو مکمل کیا گیا۔


اسرائیلی رسپانس

اسرائیلی سیاسی ذرائع نے اس مسودہ قرارداد میں تجویز کی گئی بعض دفعات کو اسرائیل کے لیے غیر موافقانہ قرار دیا ہے۔ خاص طور پر فلسطینی ریاست کے لیے راستے کی تیاری اور اسرائیل کو روکنے کے لفظ کو اپنے لیے غیر موافقانہ قرار دیا ہے۔

اسرائیلی سیکیورٹی سے متعلق ذمہ دار نے کہا ہم اس وقت تک غزہ سے نہیں نکلیں گے جب تک یہ یقین نہیں کر لیتے کہ غزہ سے کسی بھی بندوق کی نالی اسرائیل کی طرف نہیں ہو سکے گی۔


سلامتی کونسل میں ووٹنگ

قرارداد کی منظوری کے لیے سلامتی کونسل کے 15 ارکان میں سے کم از کم 9 ووٹوں کی قرارداد کے حق میں ضرورت ہوگی بشرطیکہ 5 مستقل ارکان میں سے کوئی ملک اس کو ویٹو نہ کر دے۔ پانچ مستقل ارکان میں امریکہ، روس، فرانس، چین اور برطانیہ شامل ہیں۔

اس قرارداد کی منظوری سے امریکی حمایت یافتہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر عمل کا آغاز ہو جائے گا۔ یہ امن منصوبہ 10 اکتوبر سے نافذ العمل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں