شاہ عبدالعزیز میلے نے اونٹوں کی منڈیوں کو سرگرم کر دیا ... قیمتیں 15 ہزار سے ایک لاکھ ریال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی عرب میں جاری شاہ عبدالعزیز اونٹ میلہ اپنے دسویں ایڈیشن میں مملکت اور خلیجی خطے کی مویشی منڈیوں کے لیے ایک بار پھر سرگرمی اور رونق کا باعث بن گیا ہے۔ میلے کے منتظم ادارے “کیمل کلب” نے ریاض کے شمال مشرق میں واقع الصیاحد میں میلے کے دائرے میں اونٹوں کی فروخت کے لیے ایک مخصوص علاقہ قائم کیا ہے۔ یہ ملک کے اندر اور باہر سے آنے والے شوقین افراد اور پالنے والوں کے لیے توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔

میلے میں اونٹوں کے مالکان اور فروخت کنندگان کی غیر معمولی شرکت دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں ہر قسم کے اونٹوں کی خرید و فروخت کے لیے ایک فعال منڈی قائم ہے۔ اس سرگرمی نے مقامی اور خلیجی سطح پر اونٹوں کی منڈیوں کو نمایاں طور پر متحرک کیا ہے۔ فروخت کے لیے لگائے گئے خیمے اور باڑے منظم انداز میں بازار کے دونوں جانب قائم ہیں، جب کہ نیلامی کے لیے مخصوص پلیٹ فارم بازار کے آخری حصے اور مرکزی میدان میں موجود ہیں۔

ڈاکٹر دغش المسردی نے منڈی کے بہترین انتظامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے اونٹوں کے مالکان کو آزادی اور سہولت کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ہے۔ ان کے مطابق اعلی معیار کے اونٹ پیش کیے جانے پر خرید و فروخت خاص طور پر بہتر رہتی ہے، کیونکہ اب خریدار زیادہ انتخابی ہو گئے ہیں اور خوب صورتی و معیار پر زور دیتے ہیں۔

میلے میں نیلامی کے منتظم مبارک الغنامی کے مطابق روزانہ کم از کم 200 اونٹ نیلامی میں پیش کیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض مخصوص اقسام اور رنگوں کے اونٹوں کی طلب زیادہ ہے، خصوصا مادہ اونٹ اور ذبح کے لیے تیار کم عمر اونٹ زیادہ پسند کیے جا رہے ہیں۔ قیمتوں کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ معیاری اونٹ کی قیمت 15 ہزار ریال یا اس سے زائد ہو سکتی ہے، جبکہ مقابلہ حسن کے اونٹوں کی قیمتیں ایک لاکھ ریال سے بھی بڑھ جاتی ہیں۔

میلے میں کئی برسوں سے اونٹوں کی نقل و حمل سے وابستہ ابو نائف المطیری نے سرمایہ کاری کے خواہش مند افراد کو مشورہ دیا کہ یہ سیزن تجارت اور خدمات دونوں کے لیے بہترین مواقع فراہم کرتا ہے۔

مجموعی طور پر شاہ عبدالعزیز اونٹ میلہ نہ صرف مویشیوں کے کاروبار سے وابستہ افراد کے لیے معاشی مواقع پیدا کر رہا ہے بلکہ اونٹوں سے جڑی ثقافت اور ورثے کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے، جو سعودی شناخت کا ایک نمایاں حصہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں