اسرائیل:انتہا پسندمراعات یافتہ یہودی لڑکےکی بس تلےہلاکت،یاہوکی پرتشدد واقات روکنےکی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیل میں انتہائی دائیں بازو کے نوعمر آرتھو ڈوکس یہودی کے اسرائیلی بس کے نیچے آکر مرنے کے بعد احتجاج رات بھر جاری رہا۔ یہ احتجاج یروشلم میں کیا گیا۔

اسرائیل کی انتہا پسندانہ خیالات کی حامل آرتھوڈوکس کمیونٹی مجموعی آبادی کے 13 فیصد کے قریب ہے اور اسے انتہا پسند سیاسی جماعتوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

پچھلے سال سے اس احتجاج کا موضوع آرتھوڈوکس انتہا پسند آرتھوڈوکس یہودیوں کے لیے بھی لازمی فوجی خدمات سے استثناء کا مطالبہ چلا آرہا ہے۔ اب اس طبقے کے ایک نو عمر لڑکے کا بس کے نیچے آکر مرنا ایک نئے تنازعے کا باعث بن گیا ہے۔

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے آرتھوڈوکس یہودی دنیا بھر سے آئے ہوئے یہودی آبادکاروں کے درمیان ایک مراعات یافتہ اور بالاتر طبقے کے طور پر بسنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ تاہم پچھلی کئی دہائیوں سے جاری اس مراعاتی کلچر کو عدالتی فیصلے سے ٹھیس لگی ہے کہ انہیں بھی فوج میں اب لازمی خدمات انجام دینا ہوں گی۔

آرتھوڈوکس یہودیوں کے یروشلم میں شروع ہونے والے احتجاج کے بعد وزیر اعظم نیتن یاہو اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ کسی طرح معاملہ ٹھنڈا ہوجائے اور احتجاج رک جائے۔ بصورت دیگر انتہا پسند یہودیوں کی حمایت سے وہ محروم ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے اس سلسلے میں بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں کہا میں تمام لوگوں سے تحمل مزاجی کا مطالبہ کرتا ہوں تاکہ مزید آگ نہ بڑھکے کیونکہ ہم اور سانحات نہیں چاہتے۔

نیتن یاہو نے انتہا ہسند یہودی طبقوں کو یقین دلایا ہے کہ ایک نوعمر یہودی کا اس طرح سرکاری بس کے نیچے آکر مرنے کے واقعے کی تحقیقات کرائی جائیں گی۔

پچھلے دو برسوں سے زائد عرصے میں یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کسی نوعمر کے مرنے پر اتنی حساسیت اور رنجیدگی کا اظہار کیا ہے۔

یاد رہے یروشلم میں بس نے ییشیوا سٹوڈنٹ کو کچل دیا تھا۔ جس کی ویڈیو بھی سامنے آئی۔ یہ بس کئی میٹر تک مراعات یافتہ یہودی طبقے کے اس نوعمر بچے کی لاش کو گھسیٹتی ہوئی ساتھ لے گئی۔

پولیس نے بس ڈرائیور کو گرفتار کرنے کے بعد اس سے تفتیش شروع کر دی ہے۔ بس ڈرائیور نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کی بس پر حملہ کیا گیا تھا اور وہ بس کو بچانے کے لیے تیز رفتاری سے جا رہا تھا کہ آرتھوڈوکس یہودی بچہ بس کے نیچے آکر مر گیا۔

اس ایک یہودی لڑکے کی ہلاکت کے ںعد یروشلم میں یہودیوں نے جگہ جگہ سڑکیں بلاک کی ہیں اور تشدد کے واقعات بھی دیکھنے میں آئے ہیں جو مظاہرین پولیس افسروں پر گندے انڈے اور دوسری چیزیں پھینک رہے ہیں۔ پولیس کے ترجمان نے بھی اس امر کا اظہار کیا ہے۔

یہ ہونے والے پرتشدد واقعات پہلے سے مراعات یافتہ آرتھوڈوکس یہودی کمیونٹی میں پائی جانے والی ناراضگی کو بڑھاوا دینے کا باعث بن رہی ہے۔

یاد رہے 1948 سے یہ طبقہ اسرائیل میں ایک مراعات یافتہ طبقے کے طور پر موجود ہے اور اسے باقی یہودی نوجوانوں کی طرح لازمی فوجی بھرتی کی پابندی کا سامنا نہیں رہا لیکن اب عدالت نے حکم دیا ہے کہ اس مراعات یافتہ مذہبی طبقے کے یہودی نوجوان بھی فوج میں لازما خدمات انجام دیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی کوشش ہے کہ اس منظم اور موثر مراعات یافتہ طبقے کی ناراضگی سے بچے رہیں اور اس کے ردعمل اور احتجاج کو پھیلنے سے روکنے میں کامیاب ہوجائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں