ویب پر ایرانی احتجاج کی مصنوعی ذہانت سے تخلیق کردہ ویڈیوز کا سیلاب
حکومت کے مخالفین اور حامیوں دونوں نے ایسی ویڈیوز کا استعمال کیا ہے
جیسا کہ ایران میں انٹرنیٹ کی پابندیوں کے باعث معلومات کا ایک خلا پیدا ہو گیا ہے اور اسے پُر کرنے کے لیے سوشل میڈیا صارفین کا زور انتہا سے زیادہ حقیقی نظر آنے والی ڈیپ فیکس پر ہے تو ویب پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ ایسی ویڈیوز کا ایک سیلاب امڈ آیا ہے جو بظاہر ایران میں مظاہروں کی عکاسی کرتی ہیں، محققین نے بدھ کو کہا۔
غلط معلومات کے امریکی نگراں ادارے نیوزگارڈ نے کہا کہ اس نے اے آئی سے تیار کردہ سات ویڈیوز کی نشاندہی کی ہے جو ایرانی مظاہروں کی عکاسی کرتی ہیں جو حکومت کے حامی اور مخالف دونوں عناصر کی طرف سے بنائی گئی ہیں -- جن پر آن لائن پلیٹ فارمز پر مجموعی طور پر تقریباً 3.5 ملین آراء دی گئی ہیں۔
ان میں ایلون مسک کے ملکیتی ایکس پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو تھی جس میں خواتین مظاہرین کو بسیج سے تعلق رکھنے والی گاڑی توڑتے ہوئے دکھایا گیا تھا جو مظاہروں کو دبانے کے لیے تعینات نیم فوجی ایرانی دستہ ہے۔
بقول نیوزگارڈ حکومت مخالف صارفین نے ایکس پر اے آئی کلپ پر مشتمل ایک پوسٹ کی جسے تقریباً 720,000 مرتبہ دیکھا گیا۔
امریکہ میں حکومت مخالف ایکس اور ٹک ٹاک صارفین نے بھی اے آئی ویڈیوز پوسٹ کیں جن میں ایرانی مظاہرین کو علامتی طور پر مقامی سڑکوں کا نام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام پر تبدیل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
ایسے ہی ایک کلپ میں دکھایا گیا ہے کہ ایک مظاہر ایک سڑک کے نشان کو "ٹرمپ سٹریٹ" میں تبدیل کر رہا ہے جبکہ دیگر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں جس کے ساتھ کیپشن لکھا ہوا ہے: "ایرانی مظاہرین سڑکوں کا نام ٹرمپ کے نام پر رکھ رہے ہیں۔"
ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن پر ایرانی عوام کے لیے مدد بھیجنے کے بارے میں بارہا بات کی۔ انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق ان مظاہروں میں کم از کم 3,428 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ انہیں بتایا گیا کہ ایران میں مظاہرین کی ہلاکتیں رک گئیں لیکن مزید کہا کہ وہ ممکنہ فوجی کارروائی کے بارے میں حالات کو "دیکھ کر فیصلہ کریں گے"۔
حکومت کے حامی سوشل میڈیا صارفین نے بھی اے آئی ویڈیوز پوسٹ کیں جن میں بظاہر اسلامی جمہوریہ کے طول و عرض میں حکومت کے حامی وسیع جوابی مظاہرے دکھائے گئے تھے۔
اے آئی کی مدد سے کی گئی تخلیقات بقول ماہرین ایسے "سراب زدہ" بصری مواد کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کو نمایاں کرتی ہیں جو خبروں کے بڑے واقعات کے دوران سوشل میڈیا پر اکثر مستند تصاویر اور ویڈیوز پر غالب آ جاتا ہے۔
اس معاملے میں ماہرین نے کہا، چونکہ مظاہروں کو دبانے کی کوشش میں ایرانی حکومت نے انٹرنیٹ بند کر رکھا تھا تو اے آئی کے تخلیق کار اس وجہ سے پیداشدہ معلومات کا خلا پُر کر رہے تھے۔
نیوزگارڈ کے تجزیہ کار انیس چومنالیز نے کہا، "خبریں تو بہت زیادہ ہیں لیکن انٹرنیٹ کی بندش کے باعث ان کے حصول کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ غیر ملکی سوشل میڈیا صارفین اے آئی ویڈیو جنریٹرز کا رخ کر رہے ہیں تاکہ اس وقوع پذیر افراتفری کے بارے میں اپنا بیانیہ آگے بڑھا سکیں۔"
تراشیدہ اور مصنوعی ویڈیوز ایسے اے آئی ٹولز کی تازہ ترین مثال تھیں جو تیزی سے فروغ پذیر خبروں کو مسخ کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
اکثر متعصب عناصر کے ہاتھوں فروغ پانے والی اےآئی کی تراشیدہ باتوں نے حالیہ خبری واقعات سے متعلق متبادل حقائق کو ہوا دی ہے بشمول وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کی امریکہ کے ہاتھوں گرفتاری اور منیپولس میں امیگریشن ایجنٹوں کی ہلاکت خیز فائرنگ۔
اے ایف پی کے حقائق کی جانچ کرنے والے افراد نے غلط بیانی پر مبنی تصاویر کا بھی پردہ فاش کیا جنہوں نے ایرانی مظاہروں کے بارے میں گمراہ کن بیانیہ تخلیق کیا۔
کئی ماہ پرانی ایک ویڈیو جس میں مبینہ طور پر ایران میں مظاہرے دکھائے گئے ہیں، دراصل نومبر 2025 میں یونان میں فلمائی گئی تھی جبکہ ایک مظاہر کو ایرانی پرچم پھاڑتے ہوئے دکھانے والی ایک اور ویڈیو دراصل گذشتہ سال کے مظاہروں کے دوران نیپال میں فلمائی گئی تھی جن سے ہمالیائی قوم کی حکومت کا تختہ الٹ گیا تھا۔
-
ایرانی عدلیہ: احتجاج کرنے والے عرفان سلطانی کو سزائے موت نہیں دی جائے گی
دس جنوری کو مظاہروں کے دوران گرفتار ہونے والے 26 سالہ ایرانی شہری عرفان سلطانی کو ...
مشرق وسطی -
لفتھانزا: ایرانی اور عراقی فضائی حدود کا 'تا حکمِ ثانی' استعمال نہیں کیا جائے گا
ایران کے خلاف امریکی دھمکیوں کے بعد جرمنی کی لفتھانزا نے بدھ کے روز کہا کہ اس کی ...
مشرق وسطی -
ایرانی وزیرِ خارجہ: مظاہرین کو پھانسی دینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے
ٹرمپ پر زور: جون کی جنگ والی 'غلطی' نہ دہرائیں
مشرق وسطی