سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے انخلا کے ساتھ ہی، شامی فوج نے آج ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ اس کی فورسز قصبہ دیر حافر سے شروع کرتے ہوئے دریائے فرات کے مغربی علاقے میں داخل ہو گئی ہیں۔
اس کے ساتھ ہی فوج نے مزید بتایا کہ اس کے اہل کاروں نے حلب میں مسکنہ اور دبسی عفنان کے دو علاقوں کی جانب پیش قدمی شروع کر دی ہے اور الجراح فوجی ایئر بیس پر اپنے کنٹرول کا اشارہ دیا۔ اپنی طرف سے وزارتِ دفاع نے بھی مشرقی حلب کے مضافات میں واقع قصبہ دیر حافر میں فوج کی تعیناتی کے آغاز اور اسے محفوظ بنانے کی تصدیق کی ہے۔
مزید برآں شامی فوج کے ذرائع نے العربیہ کو بتایا کہ ایس ڈی ایف کے سیکڑوں اہل کاروں نے خود کو فوج کے حوالے کر دیا ہے۔ العربیہ کے نمائندے نے آج اس سے پہلے اطلاع دی تھی کہ علاقے کے گرد و نواح میں فوج کی بڑی نفری موجود ہے اور فوج سے تعلق رکھنے والی فوجی گاڑیاں قصبہ دیر حافر اور قصبہ مسکنہ کی طرف روانہ ہو گئی ہیں۔
جہاں تک "تشرین ڈیم" کے علاقے کا تعلق ہے تو ابھی یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا وہ انخلا کے منصوبے میں شامل ہے یا نہیں۔ شامی فوج نے اس سے قبل شہریوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ قصبہ دیر حافر میں اس وقت تک داخل نہ ہوں جب تک کہ اسے محفوظ بنانے اور وہاں سے بارودی سرنگوں و جنگی باقیات کو ہٹانے کا کام مکمل نہ ہو جائے۔ فوج نے یہ تاکید بھی کی کہ ایس ڈی ایف کے اہل کاروں کو ان کے انخلا کے دوران نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب وزارتِ دفاع نے واضح کیا کہ "فرات کے مغرب سے ایس ڈی ایف کے انخلا پر عمل درآمد آج صبح سے شروع ہو گا، جس کے بعد فوجی دستے علاقے میں داخل ہونا شروع ہوں گے"۔
یاد رہے کہ ایس ڈی ایف کے کمانڈر مظلوم عبدی نے کل بین الاقوامی ثالثیوں کے بعد مشرقی حلب سے انخلا پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا "دوست ممالک اور ثالثوں کی اپیلوں کی بنیاد پر اور (فوج میں) ضم ہونے کے عمل کی تکمیل میں نیک نیتی دکھانے اور 10 مارچ کے معاہدے کی شقوں پر عمل درآمد کے عہد کے تحت، ہم نے مشرقی حلب میں موجودہ رابطہ لائنوں سے اپنی فورسز نکالنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ دریائے فرات کے مشرقی علاقوں میں دوبارہ پوزیشن سنبھالی جا سکے"۔
حلب شہر میں گذشتہ ہفتے فوج اور ایس ڈی ایف کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی تھیں، جو درجنوں کی ہلاکت اور ہزاروں کی بے گھری کا باعث بنیں۔ ان جھڑپوں کا خاتمہ کرد فورسز کے شیخ مقصود، الاشرفیہ اور بنی زید کے محلوں سے نکلنے کے معاہدے پر ہوا۔
-
شامی صدر احمد الشرع کا دورہ جرمنی، شامیوں کی ملک بدری کا مسئلہ زیرِ غور آئے گا
شامی صدر احمد الشرع منگل کو اپنے پہلے دورہ جرمنی میں برلن آمد پہنچیں گے۔ وہ اپنے ...
بين الاقوامى -
جرمنی شام کے ساتھ تعلقات گہرے کرنے کے لیے تیار ہے : ترجمان جرمن حکومت
جرمن حکومت کے ترجمان نے اپنی بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ جرمنی کی حکومت شامی حکومت ...
مشرق وسطی -
شام: قامشلی میں "ایس ڈی ایف" کے حامی افراد کا اقوام متحدہ کے دفتر پر حملہ
شام کے شمال میں واقع شہر قامشلی میں "سیریئن ڈیموکریٹک فورسز" (ایس ڈی ایف) کے حامی ...
مشرق وسطی