غزہ کمیٹی کے اجلاس کا خیرمقدم کرتے، یہ مرحلہ سنجیدہ اقدامات کا متقاضی ہے: فتح

عبوری مرحلے کو فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کی طرف لے جانا چاہیے: منذر الحائک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

تحریک فتح کے ترجمان منذر الحائک نے غزہ انتظامی کمیٹی کے پہلے اجلاس کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ موجودہ مرحلہ عملی اور سنجیدہ اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔ ان اقدامات میں سب سے اہم امریکی انتظامیہ کی جانب سے اسرائیل کو جنگ بندی برقرار رکھنے اور پیلی لائن سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنا ہے۔

فلسطینی ریاست

انہوں نے فلسطینی سیاسی نظام کو مکمل طور پر متحد کرنے اور امدادی و تعمیر نو کی کوششوں کے فوری آغاز اور بغیر کسی پابندی کے دونوں طرف سے گزرگاہوں کو کھولنے کے لیے انتظامی کمیٹی کی حمایت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عبوری مرحلے کو اس طرح آگے بڑھنا چاہیے کہ فلسطینی عوام اپنے حقِ خودارادیت کا استعمال کر سکیں اور بیت المقدس کے دارالحکومت کے ساتھ اپنی آزاد ریاست کے قیام کا جائز حق حاصل کر سکیں۔

یہ پیش رفت غزہ کے انتظام کے لیے فلسطینی قومی کمیٹی کے سربراہ علی شعث کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے واضح کیا کہ اس کمیٹی کی تشکیل سلامتی کونسل کی قرارداد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے اور فلسطینی قیادت کی منظوری کی بنیاد پر ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی کے ارکان بچوں، بیوہ خواتین، بوڑھوں اور زخمیوں کی تکالیف کے مداوے کے لیے مصر آئے ہیں۔

فلسطینی عہدیدار نے ’’ قاہرہ نیوز ‘‘ کو دیے گئے بیانات میں انکشاف کیا کہ اس کمیٹی کی تشکیل فلسطینی عوام کے لیے ایک شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے اور قومی خواب کی تکمیل کے لیے غزہ اور مغربی کنارے کے درمیان ایک بنیادی کڑی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کمیٹی 15 پیشہ ور، تکنیکی اور معتدل فلسطینی شخصیات پر مشتمل ہے۔ ان شخصیات کے پاس سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر پٹی کے اندر ترقیاتی، امدادی اور انسانی ہمدردی کے کاموں کی ایک طویل تاریخ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ کمیٹی مکمل طور پر پٹی کی تعمیر نو کے مصری منصوبے کے تحت کام کرے گی جسے عرب لیگ، اسلامی ممالک اور یورپی یونین کی حمایت حاصل ہے۔ علی شعث نے امریکی انتظامیہ اور عطیہ دہندگان کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے دو سال کے لیے آپریشنل بجٹ فراہم کر دیا ہے۔

کام کا واضح طریقہ کار

یہ پیش رفت ’’ العربیہ/ الحدث ‘‘ کے ذرائع کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا کہ علی شعث کی سربراہی میں کمیٹی نے اپنا پہلا اجلاس شروع کر دیا ہے جس میں کام کے واضح طریقہ کار اور آنے والے مرحلے کے لیے انتظامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے تاکہ بین الاقوامی ثالثوں کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے پٹی کے اندر شہری امور اور بنیادی خدمات کے انتظام کی ذمہ داریاں سنبھالی جا سکیں۔

یہ اجلاس مصر، قطر اور ترکیہ کی جانب سے کمیٹی کی تشکیل مکمل ہونے کے اعلان کے ایک دن بعد ہوا جسے ان تینوں ممالک نے ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے جو استحکام کے فروغ اور غزہ کی پٹی میں انسانی حالات کی بہتری میں معاون ثابت ہوگی۔ کمیٹی کی تشکیل کا اعلان قاہرہ میں متعدد فلسطینی دھڑوں اور قوتوں کے اجلاس کے بعد کیا گیا تھا۔ یاد رہے امریکہ نے غزہ کے لیے امن کونسل میں شامل ارکان کے ناموں کا اعلان بھی کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں