شام: داعش کے 8950 جنگجو قیدیوں کی جیلوں کے بارے میں جانیے

جیلوں میں 2021 کے دوران قتل کی 90 وارداتیں ہوئیں، 2022 میں 41 اور 2023 میں ایک بھی واقعہ پیش نہیں آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

شام میں "سیرین ڈیموکریٹک فورسز" (ایس ڈی ایف) نے آج اعلان کیا ہے کہ ملک کے شمال مشرقی علاقے الرقہ میں داعش کے قیدیوں والی ایک جیل کے گرد و نواح میں ان کے عناصر اور شامی سرکاری افواج کے درمیان شدید جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ یہ اعلان شام میں اس دہشت گرد تنظیم کے قیدیوں کے معاملے کو ایک بار پھر منظر عام پر لے آیا ہے۔

شامی حکومت اور "ایس ڈی ایف" کے درمیان پرسوں ہونے والے معاہدے کے تحت دمشق حکومت داعش کے قیدیوں اور ان کے اہل خانہ کے کیمپوں کا انتظام سنبھالے گی۔ شامی ریاست اس تنظیم کے خلاف مہم جاری رکھنے کی پابند ہوگی۔

قیدیوں اور بے گھر افراد کے کیمپوں کی کہانی

امریکی حکومت نے 2023 میں کانگریس کو پیش کی گئی ایک رپورٹ میں شمال مشرقی شام میں داعش کے قیدیوں اور بے گھر افراد کے کیمپوں کی صورتحال کی مفصل وضاحت کی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2019 میں میدانِ جنگ میں داعش کی شکست کے بعد یہ تنظیم ختم نہیں ہوئی بلکہ اس نے شمال مشرقی شام میں خفیہ طور پر اپنی صفیں دوبارہ درست کر لی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق "ایس ڈی ایف" کے زیرِ کنٹرول علاقے میں داعش کے 8,950 جنگجو قید ہیں جن میں سے اکثر جنگی تجربہ رکھتے ہیں۔ گنجان آباد کیمپوں میں 43,250 بے گھر افراد مقیم ہیں جن میں 12 سال سے کم عمر کے تقریباً 25 ہزار بچے بھی شامل ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کیمپوں اور جیلوں میں سہولیات کی کمی اور انسانی صورتحال انتہائی ابتر ہے۔ یہ ایک طرف ایک بڑا انسانی بحران ہے اور دوسری طرف علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ رپورٹ نے متنبہ کیا کہ یہ کیمپ انتہا پسندی کی نرسریوں میں تبدیل ہو رہے ہیں اور یہی بات مسئلے کی اصل جڑ ہے۔ رپورٹ کی وضاحت کے مطابق سخت معاشی حالات، ضرورت سے زیادہ بھیڑ اور مستقبل کی کوئی امید نہ ہونا انتہا پسندی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں۔

امریکی حکومت کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ داعش کے سیل حراستی مراکز اور ’’الہول ‘‘ اور ’’ روج ‘‘ جیسے کیمپوں کے اندر سرگرم ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ تنظیم کے نیٹ ورک کیمپوں کے اندر رقم سمگل کرتے ہیں تاکہ وفاداریاں خریدی جا سکیں، قتل کی وارداتیں کی جائیں اور فکری و تنظیمی تسلط قائم کیا جا سکے۔ رپورٹ نے تصدیق کی کہ امریکی حکمتِ عملی داعش کی واپسی کو روکنا ہے اور اسی مقصد کے لیے امریکہ ’’ ایس ڈی ایف ‘‘ کے ساتھ مل کر جیلوں کی حفاظت، حراستی مراکز کے انفراسٹرکچر کی بہتری اور قیدیوں کے فرار کو روکنے پر کام کر رہا ہے۔ اسی طرح امریکہ ہزاروں گارڈز کی تربیت اور تنصیبات کی جدید کاری کے لیے فنڈز فراہم کر رہا ہے تاکہ بھرتیوں کے عمل کو روکا جا سکے اور مستقبل کے حملوں کی منصوبہ بندی کو ناکام بنایا جا سکے۔

کیمپوں کے اندر سکیورٹی کے حوالے سے رپورٹ میں الحسکہ میں "الہول" اور "روج" کی صورتحال کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ امریکہ نے پولیس سٹیشنوں کو بحال کردیا اور سکیورٹی فورسز کو کمیونٹی پولیسنگ کے طریقوں کی تربیت دی ہے۔ اس کے نتیجے میں تشدد کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ 2021 میں قتل کی 90 وارداتیں ہوئیں، 2022 میں 41 اور 2023 میں قتل کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

امریکی رپورٹ میں استدلال کیا گیا کہ واحد پائیدار حل ان قیدیوں کی اپنے ملکوں کو واپسی ہے۔ رپورٹ کے مطابق واپس جانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ 2021 میں تقریباً 2000 افراد اور 2023 میں تقریباً 5500 افراد اپنے ملکوں کو لوٹے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ حالیہ برسوں میں مختلف ملکوں کی جانب سے اپنے شہریوں کی واپسی کے بعد یہ تعداد اب یقیناً مزید بڑھ چکی ہے۔

موجودہ تقسیم

2023 کے اعداد و شمار کے مطابق رپورٹ بتاتی ہے کہ داعش کے قید جنگجو 8950 ہیں۔ ان میں 5,400 شامی، 1,550 عراقی اور تقریباً 60 دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے 2,000 افراد شامل ہیں۔ بے گھر افراد کی تعداد 43250 ہے۔ ان میں 16,389 شامی، 18,186 عراقی اور تقریباً 60 دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے 8,675 افراد شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں