یمن کی ترقی و تعمیر کے لیے سعودی پروگرام اور اقوام متحدہ کے تعلیمی، علمی اور ثقافتی ادارے (یونیسکو) کے درمیان آج ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں۔ اس کا مقصد یمن کے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور یمنی حکومت کی ان کوششوں میں تعاون کرنا ہے جن کے ذریعے تاریخی مقامات کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا جا سکے۔
اس یاد داشت پر سعودی پروگرام کی جانب سے اسسٹنٹ سپروائزر جنرل انجینئر حسن العطاس، جبکہ یونیسکو کی جانب سے خلیجی ممالک اور یمن کے ریجنل ڈائریکٹر صلاح خالد نے دستخط کیے۔ اس معاہدے کا محور یمن کی ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور تعلیم، ثقافت و سائنس کے شعبوں میں تکنیکی امداد فراہم کرنا ہے۔ اس شراکت داری کے اہم منصوبوں میں حضرموت کے 'سیئون محل' کی بحالی اور بنیادی تعلیم کی معاونت شامل ہے۔
سعودی عرب اس پروگرام کے ذریعے یمن کے آٹھ بنیادی اور اہم شعبوں میں تعاون فراہم کر رہا ہے۔ ثقافتی ورثے کے تحفظ کے سلسلے میں حضرموت کے شہر تریم کی تاریخی 'الاحقاف لائبریری' میں موجود قدیم دستاویزات اور مخطوطات کو محفوظ بنانے کے لیے انہیں ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے۔
علاوہ ازیں، سقطریٰ صوبے میں دست کاری کے منصوبے کے ذریعے سیکڑوں خواتین کو سلائی کڑھائی کی تربیت دے کر انہیں معاشی طور پر خودکفیل بنایا جا رہا ہے۔ المہرہ صوبے میں 'مہری زبان' کے تحفظ کے لیے شعور اجاگر کیا جا رہا ہے، جو کہ ایک قدیم سامی زبان ہے۔
سعودی پروگرام نے ریاض میں منعقدہ "بين ثقافتين" نمائش اور یمنی آرکسٹرا کی تقریب کے ذریعے بھی دونوں ملکوں کے مشترکہ فن اور ثقافت کو فروغ دیا ہے۔ اب تک سعودی عرب اس پروگرام کے تحت یمن کے مختلف صوبوں میں تعلیم، صحت، پانی، توانائی، نقل و حمل اور زراعت سمیت دیگر شعبوں میں 268 سے زائد ترقیاتی منصوبے مکمل کر چکا ہے۔
-
یمنی صدارتی کونسل اور یمنی حکومت کے ساتھ کام جاری رکھے ہوئے ہیں: سعودی سفیر آل جابر
یمن میں فضائی نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کی تیاری کو بہتر بنانے کے لیے ایک ترقیاتی ...
بين الاقوامى -
سعودی عرب: الدرعیہ ثقافتی میلہ، سیاحوں کی آمد میں 141 فیصد اضافہ
اب تک 13 لاکھ افراد مختلف ثقافتی، سماجی اور فنی پروگراموں میں شرکت کرچکے
بين الاقوامى -
امریکہ نے سعودی عرب کے لیے پیٹریاٹ سسٹم کی فروخت کی منظوری دے دی
واشنگٹن اور ریاض کے درمیان سٹریٹجک دفاعی تعاون کے نئے دور کا آغاز
بين الاقوامى