فرانس : اسرائیلی شہریت بھی رکھنے والے دو افراد کے نسل کشی میں ملوث ہونے کی تحقیقات شروع ،

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

فرانسیسی حکام نے اپنے دو شہریوں کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔ ان دونوں نے اسرائیلی شہریت بھی حاصل کر رکھی ہے۔ اس لیے ان پر الزام ہے کہ انہوں نے بھی فلسطینیوں کی نسل کشی کے جرم میں حصہ لیا ہے۔ عائد کردہ الزام میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے انسانی بنیادوں پر غزہ کے جنگ زدہ فلسطینیوں کے لیے آنے والی امداد اور خوراک کو غیر قانونی طور پر روکا ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے کی وکیل نے ان شہریوں کے خلاف نسل کشی میں حصہ لینے کے الزام کی بنیاد پر درخواست پچھلے سال عائد کی تھی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ فرانس نے امدادی سامان اور خوراک کو روکنے کی اس کوشش کو نسل کشی میں ملوث ہونے کے مترادف سمجھا ہے۔

ان دونوں کے وارنٹ گرفتاری پچھلے سال جولائی میں جاری کیے گئے تھے۔ تحقیقات سے جڑے ہوئے ایک ذریعے نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ اسرائیلی شہریت کے حامل ان دونوں افراد کے نام کپفر نوری اور ریچل ٹوئٹو ہیں۔

وارنٹس میں دونوں کو کہا گیا ہے کہ وہ مجسٹریٹ کے سامنے تحقیقات کا حصہ بنیں تاہم ان کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔

الزام میں دونوں کو جنوری 2024 سے نومبر 2024 کے درمیان اور مئی 2025 کے دوران امدادی ٹرکوں کو روکنے کے حوالے سے الزام کا سامنا ہے جنہوں نے نیتزانا اور کرم شالوم راہداریوں پر امدادی ٹرکوں کو روکا تھا تاکہ وہ غزہ میں سامان نہ لے جا سکیں۔

کپفر نوری کے وکیل نے کہا کہ ان کے اقدامات کا مقصد حماس کے اس گروپ کی مذمت کرنا تھا جس نے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کیے تھے۔

34 سالہ ریچل ٹوئٹو نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر کہا اگر اسرائیلی پرچم کے ساتھ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف احتجاج کرنا اور انہیں دی جانے والی امداد کو روکنا دہشت گردی اور جرم ہے تو پھر ایران کے مولویوں کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے، فرانس کی طرف ہی دیکھ لینا چاہیے۔

50 سالہ کپفر نوری نے ایک نیوز ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا فرانس میں ہونے والی یہ تحقیقات یہود دشمنی پر مبنی پاگل پن ہے۔ اس کے وکیل نے کہا کہ ان کا مؤکل اسرائیل میں ہے مگر وہ فرانس میں ہونے والی تحقیقات پر اپنا موقف دے گا۔

دونوں پر الزام ہے کہ انہوں نے نسل کشی پر ابھارا ہے اور امدادی سامان کو غزہ جانے سے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایک اور ذریعے کا کہنا ہے کہ مزید 10 افراد کے خلاف بھی وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ ان کے خلاف فلسطینی مرکز برائے انسانی حقوق نے اسی سال درخواست دائر کی تھی۔ درخواست دائر کرنے والے گروپ میں الحق اور المیزان نامی گروپ شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں