''الدرعيہ" شہر ریاست کے عروج اور وحدت کے قیام کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

سعودی عرب ہر سال 22 فروری کو ’’یوم التاسيس‘‘ کے طور پر مناتا ہے، ایک ایسا دن جو ماضی کی عظیم روایات اور موجودہ قومی فخر کو زندہ کرتا ہے۔ یہ تاریخی لمحہ جنوری 2022 میں ممکن ہوا، جب سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے دستخط سے ایک شاہی فرمان جاری کیا گیا۔ اس دن کی اہمیت صرف ایک یادگار تاریخ تک محدود نہیں، بلکہ یہ سعودی عرب کی ثقافتی، تاریخی اور تہذیبی گہرائی کو محفوظ رکھنے اور اسے فخر کے ساتھ اجاگر کرنے کی علامت ہے۔

شہر ریاست

یوم التاسيس سعودی ریاست کے قیام کی نمائندگی کرتا ہے۔ 1139 ہجری / 1727 عیسوی میں امام محمد بن سعود، جو امیر مانع المریدی کی نسل میں ساتویں پوتا تھا، نے درعيہ کی حکومت سنبھالی اور تاریخ میں پہلی سعودی ریاست کے قیام کا آغاز کیا۔

اس سے دو سال قبل ان کے والد امیر سعود بن محمد بن مقرن کا تقریباً پانچ سال (1132-1137 ہجری / 1720-1725 عیسوی) کا دور حکومت تھا، جس کے دوران درعيہ کی امارت نے ایسے اہم واقعات دیکھے جنہوں نے اسے ایک ''شہر ریاست'' سے ایک اثر و رسوخ رکھنے والی ریاست میں تبدیل کر دیا، جو جزیرہ نما عرب کے وسط میں نمایاں کردار ادا کرنے لگی۔


شہر ریاست کا کیا مفہوم ہے؟

شہر ریاست ایک حکومتی نظام کی قسم ہے جو مختلف تاریخی ادوار میں دنیا کے کئی علاقوں میں رائج رہا۔ یورپ میں اسے اطالوی ''شہری ریاستوں'' کے طور پر جانا جاتا ہے، جو اٹلی کے اتحاد سے پہلے انیسویں صدی میں موجود تھیں، جیسے وینس اور جینووا جو خود کو جمہوریت کہتے تھے اور بحیرہ روم میں ان کا بڑا اثر و رسوخ تھا اور وہ اہم بندرگاہوں پر قابو رکھتے تھے۔

یہ دونوں ریاستیں مشرق کی تجارت کو مصر کے بندرگاہوں سے یورپ تک پہنچانے میں بھی اثر و رسوخ رکھتی تھیں، خاص طور پر وسطی دور اور جدید تاریخ کے آغاز میں، جب پندرہویں صدی کے آخر میں پرتگالیوں اور ہسپانویوں نے روایتی تجارتی راستوں کے علاوہ نئے راستے دریافت کیے، جو پہلے مسلم سلطنتوں اور تاجروں کے زیرِ اثر تھے۔

درعيہ کی بنیاد وادی حنیفہ کے کنارے 1446 عیسوی میں رکھی گئی۔اسی طرح قدیم یونانی تہذیب میں بھی اس حکومتی نظام (شہر ریاست) کی مثالیں موجود تھیں، جیسے ایتھنز، سپارٹا، کورنتھ، سیرقوسہ اور آرگوس۔ان میں سے ہر ایک کا سیاسی اور تہذیبی اثر و رسوخ بہت زیادہ تھا اور ان کا اثر آج بھی یورپی ثقافت میں موجود ہے۔


باقی شہروں کو شامل کرنا اور ریاست کی طرف منتقلی

دارہ ملک عبدالعزیز کی تحقیقات کے مطابق جو سعودی آرکائیو کی ذمہ دار سرکاری شاخ ہے ، امام محمد بن سعود نے محسوس کیا کہ درعيہ کا تجربہ ایک پختہ مرحلے تک پہنچ چکا ہے۔ لہٰذا اسے ایک نئے مرحلے میں منتقل کرنا ضروری تھا، جہاں شہر ریاست کا تجربہ ایک وسیع اور بڑے مفہوم میں ضم ہو، جو جزیرہ نما عرب کے زیادہ تر علاقوں پر محیط ہو۔

یونٹی کا خواب

اس تصور کے تحت امام محمد بن سعود نے اتحاد کا خواب پورا کرنے کی کوشش کی اور آخرکار اسے حاصل کر لیا۔ 1139 ہجری / 1727 عیسوی میں جب انہوں نے درعيہ کی حکومت سنبھالی، تب سے لے کر پہلی سعودی ریاست کے قیام تک انہوں نے ایک بڑے منصوبے کے تحت درعيہ کی صورتحال کو منظم کیا اور اس کے مختلف حصوں کو متحد کیا۔

درعيہ کے دونوں حصوں کا اتحاد

اولین سعودی ریاست کا قیام ایک جامع سعودی نشاۃ ثانیہ کی بنیاد کے مترادف تھا، جو سیاسی، ثقافتی، علمی، اقتصادی اور سماجی پہلوؤں میں شامل تھا۔

امام محمد بن سعود کے پہلے اقدام پر غور کریں تو واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے درعيہ کے دونوں حصوں کو متحد کرنے کا فیصلہ کیا، جو ان کی بصیرت اور عملی طور پر اتحاد پر زور دینے کا ثبوت ہے۔

معاشی ترقی اور حج و تجارت کے راستے


امام محمد بن سعود نے حج اور تجارتی راستوں کی بھی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا، جو جزیرہ نما عرب کے مختلف علاقوں کو آپس میں جوڑتے تھے۔

وادی حنیفہ ان راستوں میں سے ایک اہم مقام تھا، اس لیے امام محمد نے ان راستوں کی حفاظت اور تجارتی قافلوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کی ضرورت دیکھی، کیونکہ مضبوط معیشت اتحاد اور ریاست کی مضبوطی کے لیے بنیادی عنصر تھی۔ اسی مقصد کے لیے امام محمد نے درعيہ کے قریبی قبائل کے ساتھ متعدد معاہدے کیے تاکہ راستوں کی حفاظت ممکن ہو سکے۔

اصلاح کی دعوت اور علما کی حمایت

روایات کے مطابق امام محمد بن سعود نے اصلاحی دعوت کو اپنایا، اس کی حفاظت کی اور علما و طلبہ کی حمایت کی، جس کے نتیجے میں درعيہ خطے کا علمی اور ثقافتی مرکز بن گئی۔


تاریخی نقطہ انقلاب

اولین سعودی ریاست کا قیام جزیرہ نما عرب کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا، جہاں ہزار سال سے زیادہ عرصے تک اتحاد قائم نہیں ہوا تھا۔

اسی وجہ سے امام محمد بن سعود ایک غیر معمولی شخصیت تھے، جنہوں نے سعودی ریاست کے قیام کی بنیاد رکھی، جس سے جزیرہ نما عرب میں نبوت اور خلافت راشدہ کے بعد سب سے بڑی ریاست قائم ہوئی۔

امام اور ان کا وژن

امام محمد بن سعود بانی اولین سعودی ریاست کی شخصیت اور حکمت کو غور سے دیکھیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ جدید دور کے اہم ریاست سازوں میں شمار ہوتے ہیں۔

انہوں نے ایک مضبوط بنیاد پر ریاست قائم کی جس کی عمر تقریباً 300 سال ہونے والی ہے ، جس نے جزیرہ نما عرب میں گزشتہ ہزار سال میں سب سے بڑی ریاست کی شکل اختیار کی۔ انہوں نے ریاست کو مضبوط بنیاد پر قائم کیا اور اس کی بقا کے لیے مستقل محنت کی۔

متفرق علاقوں کو یکجا کرنا

بانی ریاست نے اپنی 40 سالہ حکمرانی میں علاقے کو متفرق اور منتشر امارات سے ایک متحدہ ریاست میں تبدیل کر دیا۔ انہوں نے سب کو ریاست میں شامل کیا اور درعيہ کو دارالحکومت کے طور پر منتخب کیا، جسے انہوں نے مضبوط اور محفوظ بنایا تاکہ یہ شہر تجارتی اور حج کے راستوں کا اہم مرکز بن سکے۔

سماجی تعمیر

محمد بن سعود کی نظر سماجی پہلوؤں پر بھی تھی۔ انہوں نے معاشرے کے افراد کی مدد کی اور شادی کے فروغ پر زور دیا، خواہ وہ اپنے بیٹے کی شادی ہو یا بیٹی کی۔

تاریخی روایات کے مطابق اگر وہ دیکھتے کہ کوئی نوجوان غیر شادی شدہ ہے اور اس کے پاس جہیز نہیں، تو وہ اسے فراہم کرتے اور شادی کا انتظام کرتے۔ اگر کوئی شخص اپنی بیٹی کو موزوںرشتہ دینے سے انکار کرتا تو محمد بن سعود خود جا کر اسے قائل کرتے۔ یہ ان کی معاشرتی یکجہتی اور ریاست و عوام کے لیے بصیرت کی واضح مثال ہے۔

درعيہ اور یوم التاسيس کی تقریبات

آج درعيہ پہلی سعودی ریاست کا دارالحکومت، ترقی اور ارتقاء کی راہ پر گامزن ہے اور اس کی یہ کامیابی اس تاریخی بنیاد سے الگ نہیں کی جا سکتی ،جو امام محمد بن سعود نے رکھی۔

سرکاری طور پر یوم التاسيس کی تقریبات کا مقصد معاشرے کے افراد کو اپنے آباؤ اجداد کی تاریخ سے جوڑنا، ان کی تعمیراتی کہانیاں یاد دلانا اور ایک متحد، مربوط اور مضبوط وطن کے قیام کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں