کویت کی وزارتِ صحت نے بدھ کو کہا ہے کہ خلیج میں ایرانی حملوں کی لہروں کے بعد ایک 11 سالہ بچی بارودی ٹکڑوں کی زد میں آکر ہلاک ہو گئی۔
امریکی اور اسرائیلی حملوں کے خلاف تہران کے ردِ عمل کا زیادہ اثر خلیجی ممالک کو برداشت کرنا پڑا ہے جس کے نتیجے میں خطے میں کم از کم نو افراد ہلاک ہو گئے۔
کویت میں کم از کم چار امریکی فوجی بھی ہلاک ہو چکے ہیں اور وہاں امریکی سفارت خانے کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا جبکہ حالیہ دنوں میں اس کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ بھی متأثر ہوا ہے۔
وزارت نے ایکس پر ایک بیان میں کہا، "بچی کو ہسپتال لے جانے کے دوران ایمبولینس میں دھڑکن اور سانس کی بحالی کا عمل کیا گیا اور الامیری ہسپتال پہنچنے پر بھی تقریباً آدھے گھنٹے تک کوششیں جاری رہیں۔ تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی۔"
متحدہ عرب امارات میں دبئی اور ابوظہبی کی سٹاک ایکسچینجز پر بھی جنگ کے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
سعودی وزارتِ دفاع نے کہا کہ دارالحکومت ریاض کے جنوب میں ایک علاقے میں دو کروز میزائل روکے گئے اور اس کی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد کئی ڈرونز تباہ کر دیے گئے۔
قطر کی سرکاری پریس ایجنسی کے مطابق ملک کے حکام نے یہ بھی اعلان کیا کہ اس نے ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے منسلک دو جاسوسی سیل ختم کر دیے۔
ایجنسی نے کہا، "قریبی نگرانی سے 10 مشتبہ افراد کی گرفتاری ممکن ہوئی: سات کو ملک میں اہم اور فوجی انفراسٹرکچر کے بارے میں جاسوسی اور معلومات جمع کرنے کا کام سونپا گیا تھا اور تین کا مقصد تخریب کاری کی کارروائیاں کرنا تھا۔"
ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے خلیجی ریاستوں کے شہروں اور بنیادی ڈھانچے کو ضرب لگائی ہے جس کے باعث تہران سے تعلقات خراب ہو گئے ہیں اور ہمسایہ ممالک کو زیادہ فوجی تصادم کے ممکنہ راستے سے دوچار کر دیا ہے۔