لاریجانی کی دھمکی کی پرواہ نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری جنرل علی لاریجانی کی طرف سے سامنے آنے والی دھمکی کے بارے میں کہا ہے کہ اس بات کی مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔

یاد رہے علی لاریجانی نے ہفتہ کے روز کہا تھا کہ ٹرمپ کو ایران پر حملوں کی ضرور سزا ملے گی اور اسے قیمت چکانا پڑے گی۔

ٹرمپ نے کہا کہ مجھے نہیں پتا کہ وہ کس کے بارے میں کیا بات کر رہے ہیں کہ میں اس طرح کی چیزوں کی پروا نہیں کرتا۔ ٹرمپ نے اس تبصرے کا اظہار پیر کی شام 'سی بی ایس' کے ساتھ انٹرویو میں کیا تھا۔ ٹرمپ نے مزید کہا وہ پہلے ہی ہار چکے ہیں۔

علی لاریجانی ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری جنرل ہیں۔ کونسل کے ارکان میں ایرانی صدر مسعود پیزشکیان ، اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور انٹیلی جنس حکام شامل ہیں۔

صدر ٹرمپ اور ایرانی قائدین نے ایک دوسرے کے خلاف دھمکی آمیز بیانات دیے ہیں اور دھمکیوں کا یہ سلسلہ جنگ کے آغاز سے چل رہا ہے۔ جس سے دونوں طرف کسی بھی سفارتکاری کے لیے مستقبل قریب میں شکوک پائے جاتے ہیں کہ سفارتکاری ہو سکے گی یا نہیں۔ جیسا کہ علاقائی قائدین اس سے پہلے ہی کوشش شروع کر چکے ہیں کہ کسی طرح جنگ کو روکا جائے۔

لاریجانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر لکھا تھا کہ ہم اپنے لیڈر اور اپنے لوگوں کے خون کا بدلہ لینے کے لیے اخری حد تک جائیں گے اور ٹرمپ کو لازما اس کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔

لاریجانی ، علی خامنہ ای کے قتل کے بعد ایران میں نمایاں طور پر سامنے آئے ہیں۔ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو امریکہ و اسرائیل کی طرف سے شروع کی گئی جنگ کے پہلے ہی روز بمباری کر کے ان کے گھر میں اہل خانہ سمیت قتل کر دیا گیا تھا۔

امریکی صدر نے لاریجانی کے اس بیان کو واپس لوٹاتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف حملے جاری رہیں گے اور یہ حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک ایران غیر مشروط طور پر سرنڈر نہیں کرتا۔

دریں اثناء امریکی لیڈر نے اس امر کو رد نہیں کیا کہ امریکہ کی زمینی افواج ایران میں اتر سکتی ہیں۔

ایئر فورس ون پر سفر کے دوران صدر ٹرمپ نے رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا زمین پر فوجیں اتارنے کی اچھی وجوہات موجود ہیں اور ایسا ممکن ہے کہ ہوجائے۔ ہم نے جب بھی ایسا کیا تو ایران زمین ہر ہمارا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں