خلیجی ریاستوں کے حکام نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات اور کویت کے فضائی دفاعی نظام نے جمعہ کی صبح میزائل حملوں کا جواب دیا جبکہ سعودی عرب نے ڈرون حملے روکے۔
بحرین کی وزارتِ داخلہ نے کہا کہ خلیج میں دوسری جگہوں پر "ایرانی جارحیت" کی وجہ سے ایک گودام میں آگ لگ گئی جس پر قابو پا لیا گیا اور اس کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
وزارت نے پہلے کہا تھا کہ فضائی حملے کے سائرن بجا دیے گئے تھے۔
کویت میں فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فضائی دفاعی نظام "دشمن کے میزائل اور ڈرونز کے خطرات کا جواب دے رہا ہے" جبکہ متحدہ عرب امارات کے سرکاری میڈیا نے "ایران سے آنے والے میزائل اور ڈرون کے خطرات" کی اطلاع دی۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے تسنیم خبر رساں ادارے کے ذریعے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے متحدہ عرب امارات کے الظفرہ فضائی مرکز کے ساتھ ساتھ اسرائیل میں موجود امریکی افواج کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔
فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
سعودی وزارتِ دفاع نے کہا کہ دو گھنٹے سے بھی کم عرصے میں اس کی افواج نے ملک کے مشرق میں 10 اور شمال میں ایک اور ڈرون "روک کر تباہ" کر دیے۔
جیسا کہ ایران نے خلیجی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے تیز کر دیے تو جمعرات کو ڈرونز نے بحیرۂ احمر پر سعودی آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا اور کویت میں دو دیگر ریفائنریز کو آگ لگ گئی۔
یہ حملے بدھ کے روز دنیا کے سب سے بڑے گیس مرکز یعنی قطر کے راس لفان میں بڑے نقصان کے بعد ہوئے جب ایران نے اپنے ملک کے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملوں کا جواب دیا۔