بھارت کی حکومت نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ ایل پی جی لے جانے والا ایک بھارتی پرچم بردار ٹینکر آبنائے ہُرمز سے بحفاظت گذر گیا ہے۔
دنیا میں مائع پیٹرولیم گیس کا دوسرا بڑا خریدار نئی دہلی گذشتہ تین ہفتوں کے دوران کئی بھارتی پرچم بردار جہازوں کے لیے راہداری محفوظ بنانے میں کامیاب رہا ہے۔
وزارتِ جہاز رانی نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ ایل پی جی کیریئر گرین سانوی آبنائے سے گذرا تھا۔
جہاز کی آخری منزل کی مزید تفصیلات بتائے بغیر ایک بیان میں کہا گیا، "گرین سانوی نے بحفاظت آبنائے ہرمز عبور کیا ہے جس میں 46,650 میٹرک ٹن ایل پی جی کے ساتھ 25 سمندری مسافر سوار تھے۔"
بیان میں کہا گیا ہے کہ 460 بھارتی عملے کے ساتھ 17 بھارتی پرچم بردار جہاز مغربی خلیج عرب کے علاقے میں موجود ہیں۔
جہاز سے باخبر رہنے والی کمپنی میرین ٹریفک کی ویب سائٹ نے اس بات کی تصدیق کی کہ گرین سانوی ایک بھارتی پرچم بردار ٹینکر تھا۔
عوامی نشریاتی ادارے آل انڈیا ریڈیو نے کہا کہ شرقِ اوسط جنگ شروع ہونے کے بعد سے یہ آبنائے کو عبور کر کے "بھارت جانے والا ساتواں ایل پی جی ٹینکر" تھا۔
بھارت کی پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے ہفتے کے روز یہ بھی کہا کہ بھارتی ریفائنرز عالمی توانائی کے بحران سے نمٹنے میں مدد کے لیے ایران اور دیگر ممالک سے خام تیل خرید رہی ہیں۔
"شرقِ اوسط سے رسد میں رکاوٹوں کے درمیان بھارتی ریفائنرز نے اپنی خام تیل کی ضروریات بشمول ایران سے منگوا کر محفوظ کر لی ہیں،" وزارت نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا اور بتایا کہ ایرانی خام درآمدات کے لیے ادائیگی میں کوئی رکاوٹ نہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ نے تقریباً دو ہفتے پہلے جہازوں پر پہلے سے لدے ایرانی تیل کی فروخت پر سے عارضی طور پر پابندیاں ہٹا دی تھیں جس کے بعد یہ پیش رفت ہوئی ہے۔
بھارت اپنی ایل پی جی کی ضروریات کا تقریباً 60 فیصد درآمد کرتا ہے اور گذشتہ ایک ماہ سے گیس کی قلت سے دوچار ہے۔
بھارتی حکومت نے درآمدی تعطل کے بعد قدرتی اور کھانا پکانے والی گیس پر سخت کنٹرول نافذ کر دیا ہے، گھروں کو گیس کی فراہمی کو ترجیح دی ہے اور صنعتی استعمال کے لیے دستیاب مقدار محدود کر دی ہے۔
نئی دہلی تہران کے ساتھ مضبوط روابط رکھتا ہے لیکن اس نے اسرائیل سے دفاع، زراعت، ٹیکنالوجی اور سائبر سکیورٹی میں تعاون میں بتدریج اضافہ کیا ہے۔
-
یمن کے شہر المخا میں ایرانی جارحیت کے خلاف بڑا عوامی مظاہرہ، خلیجی ممالک سے اظہارِ یکجہتی
مظاہرین کا خطے میں ایرانی منصوبوں کو مسترد کرنے کا مطالبہ
مشرق وسطی -
جنگ کے آغاز سے اب تک ایران نے ہمیں 300 میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا:اردن
ایرانی حملوں کا کوئی جواز نہیں، اردنی زمین اور فضائی حدود کسی کے خلاف استعمال نہیں ...
مشرق وسطی -
جنگ کے دوران 5 چینی جہازوں نے ایران کو میزائل ایندھن منتقل کیا : ٹیلیگراف
ان جہازوں پر سوڈیم پرکلوریٹ لدا ہوا تھا، جو میزائل ایندھن تیار کرنے کا بنیادی مادہ ...
مشرق وسطی