درست اور معیاری معلومات پر انحصار کرکے لبنان پر سب سے بڑا حملہ کیا: اسرائیل

اسرائیلی فوج نے لبنان بھر میں بڑے پیمانے پر اچانک حملے اور محفوظ شہری علاقوں پر بمباری کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیلی فوج نے جمعہ کو اس سب سے بڑے حملے کی تفصیلات سے پردہ اٹھایا ہے جو اس نے گزشتہ بدھ کو لبنان پر کیا تھا اور جس میں سینکڑوں افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ اس کی فورسز نے دو دن پہلے ایک بڑے پیمانے پر کارروائی مکمل کی جس میں بیک وقت تین علاقوں یعنی بیروت، بقاع اور جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں اور فوجی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔

بیان کے مطابق یہ حملہ درست اور معیاری انٹیلی جنس معلومات اور منفرد صلاحیتوں کے استعمال پر مبنی تھا، اس حملے کی بدولت ایک ہی منٹ کے اندر بیک وقت کئی علاقوں کو نشانہ بنانا ممکن ہوا۔ ملٹری انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کی ابتدائی تحقیقات کے بعد فوج نے یہ بھی اعلان کیا کہ اس حملے میں حزب اللہ کے 180 سے زیادہ ارکان جاں بحق ہوگئے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہلاکتوں کی گنتی اب بھی جاری ہے۔

فوج نے مزید بتایا کہ بدھ کے حملے میں متوازی طور پر تین علاقوں میں تقریباً 100 اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ان اہداف میں حزب اللہ کے 45 سے زیادہ مرکزی ہیڈ کوارٹرز، تقریباً 40 فوجی عمارتیں جنہیں حزب اللہ کے کمانڈرز استعمال کرتے تھے اور دیگر اعلیٰ کمانڈروں سے وابستہ بنیادی ڈھانچے شامل تھے۔ فوج نے بتایا کہ بیروت میں تقریباً 35 فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جن میں انٹیلی جنس یونٹ کا ایمرجنسی ہیڈ کوارٹر، رضوان فورس کا ہیڈ کوارٹر اور میزائل یونٹ کا ہیڈ کوارٹر شامل ہے۔

جنوبی لبنان میں مزید 40 کے قریب بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا جن میں اسلحہ کے گودام شامل تھے۔ بقاع میں رضوان فورس اور انٹیلی جنس یونٹ کے دفاتر کے علاوہ دیگر تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حزب اللہ کے ارکان ان دفاتر سے اسرائیل کے خلاف منصوبے تیار اور نافذ کرتے تھے اور یہ فضائی حملے حزب اللہ کی آپریشنل اور کمانڈ صلاحیتوں کے لیے ایک بڑا اور گہرا دھچکا ہیں۔

1500 اموات اور زخمی

اسرائیل نے بدھ کے روز پورے لبنان، بالخصوص بیروت میں اچانک بڑے پیمانے پر حملے کیے تھے۔ بمباری ان علاقوں تک پھیل گئی تھی جو پہلے محفوظ سمجھے جاتے تھے جیسے کورنیش المزرعہ، تل الخیاط اور عین المریسہ وغیرہ۔ یہ حملے بیک وقت 10 منٹ کے اندر کیے گئے جس کے نتیجے میں تقریباً 300 افراد جاں بحق اور 1500 سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔ دو مارچ سے لبنان اس جنگ میں شامل ہوگیا ہے۔ یہ جنگ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اس وقت بھڑکی جب حزب اللہ نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کا انتقام لینے کے لیے اسرائیل پر درجنوں راکٹ داغے تھے۔

جواب میں اسرائیلی افواج نے بیروت اور اس کے مضافات کے علاوہ جنوب اور بقاع پر شدید حملے کیے۔ اسرائیلی فوج جنوبی سرحدی علاقوں کے درجنوں قصبوں میں داخل ہو چکی ہے اور دریائے لیطانی کے جنوب تک یعنی تقریباً 30 کلومیٹر تک "بفر زون" قائم کرنے کی دھمکی دے رہی ہے۔ یہ ملک کے کل رقبے کا 10 فیصد بنتا ہے۔

تاہم ’’ العربیہ/ الحدث ‘‘ کے ذرائع نے پہلے اشارہ دیا تھا کہ بیروت میں متعین امریکی سفیر مشعل عیسیٰ، جو اس وقت واشنگٹن میں ہیں، کی کوششوں کے بعد لبنانی معاملہ اب امریکی انتظامیہ کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کو اس بات پر قائل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ آنے والے مرحلے کے سیاسی اور سکیورٹی حسابات میں لبنان کو شامل کرنا ضروری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں