شمالی عراق میں جاری سکیورٹی کشیدگی کے دوران بدھ کے روز صوبہ اربیل کے علاقے دیکلہ میں ایک مہاجر کیمپ کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق ایک ڈرون طیارے نے اربیل میں ایرانی کرد اپوزیشن سے وابستہ ایک مقام کو نشانہ بنایا۔
دوسری جانب ایرانی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کی انتظامیہ کے رکن اور پیشمرگہ سینٹر کے عہدیدار کاوہ بہرامی نے بتایا کہ پارٹی کے پیشمرگہ اہلکاروں کے خاندانوں کے لیے مختص اس کیمپ پر آج سہ پہر حملہ کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس حملے میں کوئی زخمی نہیں ہوا اور نقصان صرف مادی نوعیت کا رہا، جیسا کہ روڈاو میڈیا نیٹ ورک نے رپورٹ کیا ہے۔
حملوں کا تسلسل
یہ حملہ خطے میں گذشتہ دو روز سے جاری حملوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کے دوران منگل کی شام صوبہ سلیمانیہ میں سورداش کیمپ پر دو ڈرون حملے کیے گئے تھے۔ ان حملوں کے نتیجے میں کردستان محنت کش جمعیت کی ایک خاتون پیشمرگہ اہلکار جاں بحق اور دو دیگر زخمی ہو گئے تھے، اس کے علاوہ کویہ کے مقام پر آزادی کیمپ کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔
اس سے قبل صوبہ کردستان کے انسداد دہشت گردی کے ادارے نے اعلان کیا تھا کہ منگل کی شام ایرانی حدود سے اربیل کی جانب بھیجے گئے دو بارود بردار ڈرون طیاروں کو تباہ کر کے گرا دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ اربیل میں وقتاً فوقتاً ڈرون اور میزائل حملے ہوتے رہتے ہیں جن میں شہر کے ہوائی اڈے، امریکہ کی قیادت میں عالمی اتحاد کی افواج کے مراکز یا ایرانی اپوزیشن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
-
پاکستان: زائرین کے عراق جانے کے لیے کراچی سے فیری سروس چلانے کا حکم
وزیر داخلہ محسن نقوی نے منگل کے روز متعلقہ حکام کو حکم دیا ہے کہ عراق جانے والے ...
پاكستان -
نیٹو ارکان کا ایرانی بندرگاہوں کے امریکی محاصرے میں شامل ہونے سے انکار
برطانیہ اور فرانس نے کہا وہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے ایک اقدام پر کام کر رہے ...
بين الاقوامى -
سعودی عرب کا شام میں 53 منصوبوں پر مشتمل ورچوئل رضاکارانہ پروگرام شروع
پروگرم میں 239 ذیلی تخصصات شامل جو شام کی وزارتِ صحت کی ترجیحات کے مطابق ہیں
مشرق وسطی