تہران کے ساتھ 'برے معاہدے' پر یورپی ممالک کو تشویش، لاینحل مسائل پیدا ہونے کا خدشہ
جہاں کچھ یورپی اتحادیوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ امریکی مذاکراتی ٹیم ایران کے ساتھ ایک فوری فریم ورک معاہدے کے لیے دباؤ ڈال سکتی ہے جو میڈیا میں تو ہلچل پیدا کر دے لیکن مسائل حل کرنے کے بجائے انہیں مستقل کر دے، وہیں وائٹ ہاؤس کے ایک ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ انتظامیہ نے کسی بھی متوقع معاہدے میں اپنی ریڈ لائنز واضح کر دی ہیں۔
خبر رساں ادارے رائیٹرز نے سابق سفارت کاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ یورپی ممالک کو ڈر ہے کہ واشنگٹن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک سفارتی کامیابی درج کرنے کی جلدی میں ایرانی جوہری پروگرام اور پابندیوں میں نرمی کے حوالے سے کوئی سطحی معاہدہ نہ کر لے اور پھر خود کو مہینوں یا برسوں تک پیچیدہ تکنیکی مذاکرات میں پھنسا ہوا پائے۔
ایک بڑا ابتدائی معاہدہ
ایک اعلیٰ سطح کے یورپی سفارت کار نے واضح کیا کہ "تشویش معاہدہ نہ ہونے سے نہیں بلکہ ایک ایسے بُرے ابتدائی معاہدے سے ہے جو بعد میں کبھی نہ ختم ہونے والے مسائل پیدا کر دے"۔
دیگر سفارت کاروں نے کہا کہ ایک سادہ ڈھانچہ جاتی معاہدہ جس میں جوہری اور اقتصادی پیکیجز شامل ہوں ممکن ہے، لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ جوہری پہلو اب بھی سب سے زیادہ پیچیدہ ہے۔
ایک دوسرے یورپی سفارت کار نے مزید کہا کہ "امریکی سمجھتے ہیں کہ پانچ صفحات کی دستاویز میں تین یا چار نکات پر اتفاق ہو سکتا ہے اور معاملہ ختم ہو جائے گا، لیکن جوہری فائل میں ہر شق درجنوں دیگر اختلافات کا دروازہ کھول دیتی ہے"۔
فرانس کے سابق چیف مذاکرات کار جیرارڈ آرو نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات انتہائی باریک بین اور حساس ہوتے ہیں، جہاں ہر لفظ کی اہمیت ہوتی ہے اور اس میں جلد بازی نہیں کی جا سکتی۔
ریڈ لائنز
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے اس بات پر زور دیا کہ "ڈونلڈ ٹرمپ ریاستہائے متحدہ امریکہ اور امریکی عوام کی جانب سے اچھے سودے کرنے کا ثابت شدہ ریکارڈ رکھتے ہیں اور وہ صرف اسی معاہدے کو قبول کریں گے جس میں امریکہ سب سے پہلے ہو"۔
ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے زور دیا کہ واشنگٹن کی ریڈ لائنز میں یورینیم کی افزودگی کا خاتمہ، افزودگی کی بڑی تنصیبات کو ختم کرنا، افزودہ یورینیم کی واپسی اور علاقائی اتحادیوں کی شرکت کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے وسیع تر فریم ورک کو قبول کرنا شامل ہے۔
یورینیم اور افزودگی
حالیہ مذاکرات ایران کے پاس موجود تقریباً 440 کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر مرکوز ہیں، جو مزید افزودہ کیے جانے کی صورت میں کئی ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔
تہران کا کہنا ہے کہ اس کا ترجیحی انتخاب بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی میں ملک کے اندر ہی "افزودگی کی شرح کم کرنا" ہے، جبکہ وہ ایک دوسرے آپشن کے طور پر کچھ حصہ بیرون ملک منتقل کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کر سکتا ہے۔
اس سلسلے میں ترکیہ اور فرانس کا ممکنہ مقامات کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم دو سفارت کاروں نے کہا کہ امریکہ کو مواد بھیجنا ایران کے لیے سیاسی طور پر مشکل ہو گا، جبکہ روس واشنگٹن کے لیے قابل قبول آپشن نہیں ہے۔ لیکن ان آپشنز کے لیے بھی طویل مذاکرات درکار ہوں گے تاکہ اس یورینیم مواد کو تلاش کر کے نکالا جا سکے جو امریکی و اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں زیر زمین دب چکا ہے۔
یورینیم کے ذخیرے کے علاوہ افزودگی کے حق پر بھی گہرا اختلاف پایا جاتا ہے۔ ٹرمپ نے افزودگی کو صفر کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ایرانی حکام سویلین مقاصد کے لیے افزودگی کے حق پر اصرار کر رہے ہیں۔ ایک ممکنہ سمجھوتہ یہ ہو سکتا ہے کہ افزودگی پر عارضی روک لگائی جائے جس کے بعد سخت شرائط کے ساتھ انتہائی نچلی سطح پر اسے بحال کیا جائے۔
پابندیوں میں نرمی اور وقار کا تحفظ
مذاکرات کے اقتصادی راستے میں پابندیوں کے خاتمے اور منجمد ایرانی اثاثوں کی واگزاری پر توجہ دی گئی ہے۔ ایران نے مختصر مدت میں اپنے منجمد اثاثوں کے ایک حصے تک رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔
پابندیوں میں وسیع تر نرمی جس کے لیے یورپی تعاون درکار ہو گا، بعد میں آئے گی۔ ایرانی قیادت سمجھتی ہے کہ یورپ کے ساتھ تجارت طویل مدت میں ضروری ہے۔
علاقائی سفارت کاروں نے ٹرمپ کے مذاکرات کاروں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے رئیل اسٹیٹ پس منظر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی جائیداد کا سودا نہیں جو صرف ہاتھ ملانے سے طے ہو جائے، بلکہ اس کا تعلق مراحل، پابندیوں میں نرمی اور باہمی جوہری اقدامات سے ہے۔
تہران اب بھی اس بنیادی مطالبے پر قائم ہے کہ اس پر دوبارہ حملہ نہ کرنے کی ضمانت دی جائے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کی باقی ماندہ میزائل صلاحیتیں دفاع کے لیے ناگزیر ہیں جنہیں سکیورٹی ضمانتوں کے بغیر نہیں چھوڑا جا سکتا۔
ایک منصفانہ اور معقول معاہدہ
ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ ان کی انتظامیہ نے ایک انتہائی منصفانہ اور معقول معاہدہ پیش کیا ہے اور امید ظاہر کی کہ تہران اسے قبول کر لے گا۔ انہوں نے آج نیٹ ورک "اے بی سی" کو انٹرویو دیتے ہوئے کہاکہ "اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو امریکہ ایران کے ہر بجلی گھر اور ہر پل کو تباہ کر دے گا"۔
انہوں نے کہا کہ تہران نے جنگ بندی کی "سنگین خلاف ورزی" کی ہے، لیکن وہ اب بھی سمجھتے ہیں کہ وہ امن معاہدہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امریکی صدر نے اپنے پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر انکشاف کیا کہ ان کے نمائندے ایران سے متعلق مذاکرات کے لیے "کل شام" پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد جائیں گے۔
-
ایران سے کشیدگی کے درمیان ٹرمپ کی طرف سے اسرائیل کی تعریف، 'عظیم اتحادی' قرار دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز اسرائیل کو ایک "عظیم اتحادی" کے طور پر سراہا ...
مشرق وسطی -
ایران نے جنگ سے پہلے کی نسبت زیادہ رفتار سے لانچرز کو وسائل فراہم کیے ہیں: کمانڈر پاسداران
نور نیوز کے مطابق اتوار کو پاسدارانِ انقلاب کی ایروسپیس فورس کے کمانڈر نے کہا ہے ...
مشرق وسطی -
ایران کے خلاف کارروائی نہ کرتے تو وہ ایٹمی بم حاصل کر لیتا:بنجمن نیتن یاھو
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی ختم ہونے میں چند دن باقی ہیں اور پاکستان کی ...
بين الاقوامى