وٹکوف اور عراقچی کے درمیان براہ راست مذاکرات پر ابہام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

گذشتہ گھنٹوں کے دوران امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد کی جانب رخ کرنے سے فریقین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی بحالی کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا، وہیں براہ راست بات چیت کے حوالے سے دونوں جانب سے بیانات میں تضاد سامنے آیا ہے۔

گذشتہ روز جمعے کی شام ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے پاکستان پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد ہی ان کی حکومت نے واضح کر دیا کہ اس دورے کے دوران امریکی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ کوئی براہ راست مذاکرات نہیں ہوں گے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتے کی صبح "ایکس" پر ایک پوسٹ میں کہا کہ "ایران اور امریکہ کے درمیان کسی ملاقات کا کوئی شیڈول نہیں ہے"۔ بقائی نے واضح کیا کہ پاکستانی حکام دونوں وفود کے درمیان پیغامات کی رسانی کا فریضہ انجام دیں گے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ایرانی وفد پاکستان کو اپنے خدشات اور تحفظات سے آگاہ کرے گا۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے گذشتہ شام "فوکس نیوز" پر گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ خصوصی امریکی مندوب اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر، جو آج اسلام آباد روانہ ہو رہے ہیں، عباس عراقچی سے براہ راست ملاقات کریں گے اور آمنے سامنے بات چیت ہوگی۔

انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ یہ متوقع ملاقات تہران کی درخواست پر ہو رہی ہے۔ لیوٹ نے کہا کہ واشنگٹن نے گذشتہ چند دنوں میں ایرانی جانب سے کچھ پیش رفت دیکھی ہے اور اسے امید ہے کہ ہفتے کے اختتام پر ہونے والے مذاکرات میں مزید کامیابی حاصل ہوگی۔

ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، جنہوں نے مذاکرات کے واحد دور میں اپنے ملک کے وفد کی قیادت کی تھی، نمایاں پیش رفت کی صورت میں مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے پاکستان جانے کے لیے تیار ہیں۔

ایرانی پیشکش

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران ایک ایسی پیشکش دینے کا ارادہ رکھتا ہے جس کا مقصد واشنگٹن کے مطالبات کو پورا کرنا ہے۔ تاہم انہوں نے مزید کہا کہ وہ ابھی تک یہ نہیں جانتے کہ اس پیشکش میں کیا شامل ہے۔

جب ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ امریکہ کس فریق کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے، تو انہوں نے کہا کہ "میں اس کا اعلان نہیں کرنا چاہتا، لیکن ہم ان لوگوں کے ساتھ ڈیل کر رہے ہیں جو اس وقت ذمے دار ہیں"۔

یہ بیانات پاکستانی وزارت خارجہ کے اس اعلان کے بعد سامنے آئے ہیں کہ ایرانی وزیر خارجہ جمعہ کی شام اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، تاہم اس میں امریکی فریق کے ساتھ مذاکرات کا براہ راست کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب فریقین کے درمیان تناؤ بڑھ گیا تھا جس سے مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا، جس کی تیاریاں پاکستان نے رواں ہفتے کے آغاز سے ہی شروع کر دی تھیں۔ تہران نے اپنی بندرگاہوں پر 13 اپریل سے لگائے گئے محاصرے کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے جو اسی ماہ کی آٹھ تاریخ کی صبح سے نافذ العمل ہے۔

دوسری طرف امریکی انتظامیہ محاصرے پر برقرار ہے اور اسے اپنے مطالبات کے مطابق کسی تسلی بخش معاہدے تک پہنچنے سے مشروط کر رکھا ہے۔ اسی دوران امریکہ نے خطے میں اپنا تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھی بھیج دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں