لبنان اسرائیلی جرائم کی دستاویز سازی اور انہیں اقوام متحدہ میں پیش کرنے کے لیے پُر عزم

صدر عون نے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ جنوبی لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں بند کرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے آج بروز پیر اسرائیلی جنگی جرائم کی دستاویز سازی جاری رکھنے اور انہیں اقوام متحدہ میں پیش کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

"نیشنل انفارمیشن ایجنسی" کے مطابق نواف سلام نے آج صبح وزارتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ لبنان جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کا اجلاس بلانے کے لیے کام کر رہا ہے۔

اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات پال مرقص نے کہا "اجلاس کے آغاز میں وزیراعظم سلام نے اسرائیلی حملوں میں توسیع، جنگی جرائم کی دستاویز سازی اور انہیں اقوام متحدہ میں پیش کرنے کی اہمیت پر بات کی۔ انہوں نے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے کا بھی انکشاف کیا جس کے تحت وہ لبنان میں ہونے والے جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے جلد ہی لبنان کا دورہ کریں گے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی اداروں بالخصوص ورلڈ بینک کے تعاون اور سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے تباہی، نقصانات اور نقصانات کی دستاویز سازی کو مکمل کرنے کے لیے متعلقہ وزارتوں کے درمیان رابطہ کاری جاری ہے۔ ہر وزارت اپنے دائرہ اختیار میں نقصانات، بالخصوص معاشی نقصانات اور دیہات کو مسمار کیے جانے کی دستاویز سازی کر رہی ہے۔

مرقص نے اشارہ کیا کہ وزیراعظم سلام نے لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر گہری تشویش کا اظہار کیا جہاں اموات کی تعداد 2846 اور زخمیوں کی تعداد 8639 تک پہنچ چکی ہے۔

لبنانی وزیر نے مزید کہا کہ "سکیورٹی اور فوجی محاذ پر وزیر دفاع نے میدانی صورت حال کا جائزہ پیش کیا۔" انہوں نے بتایا کہ "اسرائیل نے خیام حراستی مرکز میں ایک مستقل پوائنٹ قائم کر رکھا ہے، جبکہ کچھ دیگر مقامات پر اس کی نقل و حرکت جاری ہے جہاں وہ داخل ہو کر واپس نکل جاتا ہے۔"

مرقص کے مطابق وزیر دفاع نے بتایا کہ لبنانی فوج اسمگلنگ روکنے کے لیے لبنان اور شام کی سرحد پر آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے اور منشیات کی پیداوار و کاشت کے لیے استعمال ہونے والے فارم ہاؤسز پر چھاپے مار رہی ہے۔ ان میں سے کچھ کارروائیوں کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ہلاکتیں اور زخمی بھی ہوئے ہیں۔

مرقص نے واضح کیا کہ "اجلاس میں بے گھر افراد کی امدادی ضروریات اور متعلقہ وزارتوں کے درمیان وزیراعظم کی نگرانی میں رابطہ کاری کے ذریعے انہیں ضروری امداد فراہم کرنے کے طریقوں پر بھی غور کیا گیا۔"

اسی تناظر میں لبنانی صدر جوزف عون نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ وہ ملک کے جنوب میں اپنی فوجی کارروائیاں بند کرے۔
لبنانی ایوان صدر کی جانب سے پیر کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق صدر عون نے امریکی سفیر مشعل عیسیٰ کے ساتھ لبنان، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے تیسرے اجلاس سے متعلق تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا، جو رواں ہفتے واشنگٹن میں منعقد ہوگا۔

بیان کے مطابق عون نے اس بات پر زور دیا کہ "فائر بندی، فوجی کارروائیوں کے خاتمے اور گھروں کو تباہ و مسمار کرنے سے روکنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالنا ضروری ہے۔"

گزشتہ ہفتے امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہل کار نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ آئندہ جمعرات اور جمعہ کو واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کے ایک اور دور کی میزبانی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

صدر عون نے گذشتہ 9 مارچ کو لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے ایک اقدام شروع کیا تھا، جس کی بنیاد مکمل جنگ بندی، تمام اسرائیلی حملوں کی بندش، لبنانی فوج کی حمایت، کشیدہ علاقوں پر فوج کا کنٹرول اور وہاں سے تمام اسلحہ ضبط کرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے آغاز پر ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تین ہفتوں سے ایک کمزور فائر بندی نافذ ہے، تاہم اس کے باوجود فریقین کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں