جاپان میں آلو کے پیکٹس کا سیاہ و سفید میں تبدیل ہونا… اس کا ایران سے کیا تعلق ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

جاپان میں مختلف دکانوں اور ریسٹورنٹس میں آلو کے چپس کے پیکٹس اب رنگین ڈیزائن کے بجائے سیاہ و سفید میں نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔

اس تبدیلی کی وجہ بعض ایسے اجزاء کی سپلائی میں خلل بتایا جا رہا ہے، جو رنگین پرنٹنگ میں استعمال ہونے والی روشنائی (انک) کی تیاری میں شامل ہوتے ہیں، یہ خلل ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور جنگی صورتحال سے منسلک بتایا گیا ہے۔

ٹوکیو میں قائم معروف جاپانی کمپنی ''کالبی'' جو آلو کے چپس اور ناشتہ آئٹمز تیار کرتی ہے، نے واضح کیا ہے کہ مصنوعات کے اندر کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، صرف پیکیجنگ متاثر ہوئی ہے۔

کمپنی کے مطابق اس اقدام کا مقصد سپلائی چین کو برقرار رکھنا ہے۔ 25 مئی سے 14 مصنوعات کی پیکیجنگ میں صرف دو رنگ استعمال کیے جائیں گے تاکہ عالمی سیاسی اور معاشی حالات کے مطابق لچک پیدا کی جا سکے۔کمپنی نے یہ بھی کہا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ تبدیلی کب تک جاری رہے گی۔

آبنائے ہرمز کی بندش

یہ اقدام ایران میں جاری جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کی عملی بندش کے تازہ اثرات میں سے ایک سمجھا جا رہا ہے، جس نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے اور دیگر مصنوعات کی سپلائی چین میں بھی رکاوٹیں پیدا کر دی ہیں۔

جاپان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے تقریباً مکمل طور پر درآمدی تیل پر انحصار کرتا ہے۔ پیٹرولیم کی ایک اہم قسم ''نافثا'' پلاسٹک اور پرنٹنگ انک سمیت متعدد صنعتوں میں استعمال ہوتی ہے۔

اب تک جاپانی حکومت نے ان خدشات پر نسبتاً پُرسکون ردعمل دیا ہے اور مارکیٹ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک کے پاس تیل کے ذخائر موجود ہیں۔

تاہم آلو کے چپس کے پیکٹس میں واضح تبدیلی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ خاص طور پر کالبی کمپنی کے مشہور ''اوسو شیو'' چپس، جو پہلے نارنجی رنگ کے روشن پیکٹس میں آتے تھے، جن پر کارٹون کردار اور رنگین ڈیزائن موجود ہوتا تھا، اب صرف سیاہ و سفید اور سادہ تحریر تک محدود ہو گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں