قطر کے امیر کی ٹرمپ کے ساتھ امن برقرار رکھنے اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر بات چیت
واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے نقطہ ہائے نظر کو قریب لانے کی پاکستانی کوششوں کے جاری رہنے کے درمیان، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ اس کا مقصد امن کو برقرار رکھنا اور کشیدگی کو کم کرنا ہے اور ان میں سب سے اہم پاکستان کی قیادت میں جاری سفارتی کوششوں کی حمایت کرنا ہے تاکہ خطے کو مزید تناؤ سے بچایا جا سکے اور بین الاقوامی امن و سکیورٹی کا تحفظ کیا جا سکے۔
شاہی دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، اس ٹیلی فونک گفتگو میں موجودہ مسائل کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کے راستے جاری رکھنے، بحری جہاز رانی کی سکیورٹی اور اسٹریٹجک گزرگاہوں کی سلامتی کو برقرار رکھنے اور عالمی سپلائی چین اور توانائی کی روانی کو یقینی بنانے کی اہمیت پر بھی بات چیت کی گئی۔
آل ثانی نے ریاستِ قطر کے اس دیرینہ موقف کا اعادہ کیا جو پُر امن حل کو ترجیح دینے اور مذاکرات و سفارت کاری کے ذریعے بحران پر قابو پانے کی تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے، تاکہ استحکام کو فروغ ملے اور خطے اور دنیا کے عوام کے مفادات کی تکمیل ہو سکے۔
یہ اس وقت سامنے آیا جب پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر تہران کے دورے پر تھے۔ وہاں انہوں نے گذشتہ روز شام کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی تاکہ امن کے حصول کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے، اور آج دوبارہ بھی ان سے ملاقات کی۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے آج بتایا ہے کہ ایرانی چیف مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قاليباف نے تہران میں عاصم منیر سے ملاقات کی ہے۔
پاکستانی آرمی چیف نے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی موجودگی میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ بھی ملاقاتیں کیں۔
علاوہ ازیں العربیہ/الحدث کو ایک اعلیٰ سطح کے ذریعے سے ملنے والی معلومات کے مطابق جمود کو توڑنے اور رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوشش میں عاصم منیر کی آج پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر احمد وحیدی سے بھی ملاقات متوقع ہے۔
واضح رہے کہ تہران اب بھی اس بات پر اصرار کر رہا ہے کہ اعلیٰ افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل نہ کیا جائے اور وہ جنگ کے خاتمے کے بعد بھی "آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول اور انتظام" کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ امریکی پابندیوں کے خاتمے اور بیرون ملک اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی کا بھی خواہاں ہے۔
دوسری طرف امریکی موقف ایران کے اندر افزودہ یورینیم رکھنے یا ہرمز میں جہاز رانی پر کوئی بھی پابندی عائد کرنے کو مسترد کرنے پر برقرار ہے، جو کہ ایک ایسی اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا بھر کے تیل اور گیس کی سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
-
ایوانکا ٹرمپ کے قتل کے منصوبے کی خبریں ... گھر کی تصویر جاری کی گئی
عراقی حزب اللہ بریگیڈز کے رہنما محمد باقر السعدی کی امریکی افواج کے ہاتھوں ترکیہ ...
بين الاقوامى -
ٹرمپ کے معاون نے اسٹیلتھ طیارے کی بغیر تبصرے کے ایک عجیب و غریب ویڈیو جاری کر دی
حساس وقت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک معاون نے B-2 ''اسٹیلتھ'' طیارے کی مختصر ...
بين الاقوامى -
امریکی سینیٹر کا ٹرمپ سے ایران میں "مشن مکمل کرنے" کا مطالبہ
امریکی سینیٹ کی مسلح افواج کمیٹی کے چیئرمین، ریپبلکن سینیٹر راجر وِکر نے صدر ڈونلڈ ...
بين الاقوامى