مارب میں انسانی بحران کا غلبہ... 2 لاکھ 34 ہزار یمنی خاندان بھوک کے سائے میں

کم از کم 6 ہزار 229 بچے تعلیمی عمل سے باہر ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

یمن کے مشرقی صوبے مارب کو معیارِ زندگی اور خدمات کی سطح میں پسماندگی کے باعث انسانی بحران میں شدید اضافے کا سامنا ہے۔ سرکاری سطح پر انتباہ جاری کیا گیا ہے کہ رواں سال 2026 کے دوران بین الاقوامی انسانی فنڈنگ میں کمی اور شدید موسمیاتی تغیرات کی وجہ سے بے گھر افراد اور مقامی رہائشیوں کی بنیادی ضروریات کے خلا میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

مارب میں وزارت منصوبہ بندی کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ صوبہ جہاں یمن میں بے گھر افراد کی سب سے بڑی تعداد موجود ہے، ایک حقیقی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ یہاں تقریباً 2 لاکھ 96 ہزار 835 خاندانوں کو زندہ رہنے کے لیے فوری اور زندگی بچانے والی انسانی امداد کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق مقامی کرنسی کی قدر میں گراوٹ، اشیاء کی قیمتوں میں اضافے اور بیرونی امداد پر منحصر بہت سے پروگراموں کے بند ہونے کی وجہ سے صوبے میں بھوک کے اشاریوں نے سال 2024 کے حالات کے مقابلے میں 13 فی صد ریکارڈ اضافہ درج کیا ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ تقریباً 63 فی صد طبی مراکز جزوی طور پر بند ہو چکے ہیں جو بنیادی آلات اور دیکھ بھال سے محروم ہیں۔ اس وقت کمزور طبقات انتہائی الم ناک صورت حال سے دوچار ہیں، کیونکہ تقریباً 99 ہزار 879 حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین بنیادی صحت کی دیکھ بھال اور غذائی سہولیات سے محروم ہیں، جس سے غذائی قلت اور شرح اموات میں اضافے کا خطرہ ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ 63 فی صد آبادی پینے کے صاف اور پائیدار پانی کے ذرائع سے محروم ہے، جس نے ماحولیاتی خطرات اور وباؤں کے پھیلاؤ کو بڑھا دیا ہے۔ خاص طور پر بے گھر افراد کے کیمپوں اور گنجان آباد علاقوں میں، جو مہنگے اور غیر محفوظ پانی کے ٹینکروں پر انحصار کرتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کم از کم 6 ہزار 229 بچے تعلیمی عمل سے باہر ہو کر اسکولوں سے دور ہو گئے ہیں۔ اس کی وجہ سخت معاشی حالات ہیں جو خاندانوں کو اپنے بچوں کو مزدوری کی منڈی میں دھکیلنے پر مجبور کرتے ہیں۔

رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے کہ مارب میں بے گھر بچوں میں سے 47 فی صد سرکاری پیدائشی سرٹیفکیٹس سے محروم ہیں، جو مستقبل میں ان کے بنیادی خدمات، تعلیم کے حصول اور نقل و حرکت کے راستے میں ایک خاموش رکاوٹ ہے۔

منصوبہ بندی کے دفتر کا کہنا ہے کہ مارب کی جانب مسلسل نقل مکانی ایک بھاری بوجھ بن چکی ہے۔ بے گھر خاندانوں میں سے 71 فی صد اب بھی کیمپوں اور ہنگامی و خستہ حال پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں اور کرائے کے گھروں میں رہنے والے 69 فی صد افراد کو فی الحال جائیداد کے مالکان کی جانب سے "زبردستی بے دخلی" کا سامنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں