ثالث ممالک اور حماس کے درمیان ہتھیاروں سے متعلق فارمولے پر اتفاق:فلسطینی عہدیدار

قاہرہ میں مذاکرات میں پیش رفت، حماس کا ہتھیاروں کی منتقلی کو مکمل اسرائیلی انخلا سے مشروط قرار دینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

حماس سمیت دیگر فلسطینی دھڑوں کے درمیان قاہرہ میں ہونے والی ملاقاتوں کے بعد ایک باخبر فلسطینی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ ثالث ممالک اور حماس کے درمیان غزہ کی پٹی میں موجود دھڑوں کے پاس موجود ہتھیاروں کو محدود کرنے کے معاملے پر ایک مشروط فارمولے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

انہوں نے منگل کے روز العربیہ اور الحدث کو دیے گئے بیان میں مزید کہا کہ فلسطینی دھڑے وساطت کاروں کے ساتھ مل کر آج شام اس پیش رفت کے بارے میں ممکنہ طور پر ایک بیان جاری کرنے کا جائزہ لے رہے ہیں۔

عہدیدار نے وضاحت کی کہ حماس ہتھیاروں کے معاملے کو اسرائیل کے غزہ کی پٹی سے مکمل انخلا، جنگ کے تمام اثرات کے خاتمے اور تعمیر نو کے ساتھ منسلک کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں توقع کرتا ہوں کہ اسرائیل اور امن کونسل کے سربراہ نکولے ملادی نوف ان شرائط کو مسترد کر دیں گے، کیونکہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کی طرف بڑھنے سے پہلے ہتھیاروں کی حوالگی پر اصرار کر رہے ہیں۔

ٹھوس پیش رفت

اس سے قبل حماس کے سربراہ کے میڈیا مشیر طاہر النونو نے تصدیق کی تھی کہ گذشتہ چند دنوں کے دوران قاہرہ میں ہونے والی بات چیت اور مذاکرات میں ٹھوس پیش رفت ہوئی ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے"۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے تمام باقی ماندہ مسائل، فلسطینی عوام کے سیاسی حقوق اور اصولی موقف کے تحفظ، غزہ کی انتظامیہ کے لیے قومی کمیٹی کے داخلے اور پٹی میں اس کے تمام فرائض سنبھالنے، امداد کی فراہمی میں تیزی لانے، ریلیف اور تعمیر نو کا آغاز کرنے اور پورے غزہ سے اسرائیلی انخلا کو یقینی بنانے جیسے امور شامل ہیں۔

واضح رہے کہ حماس کے غزہ میں سربراہ خلیل الحیہ کی قیادت میں تنظیم کے وفد نے قاہرہ میں سلسلہ وار ملاقاتیں کی ہیں جن میں قطر کے وزیراعظم اور مصر و ترکیہ کے انٹیلی جنس وزراء کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔

یہ ملاقاتیں امن منصوبے پر عمل درآمد میں تعطل کے بعد ہوئی ہیں، جبکہ سنہ 2025ء کے اکتوبر سے جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملے جاری ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے گذشتہ ماہ (مئی سنہ 2026ء) کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ انہوں نے اسرائیلی فوج کو غزہ پر اپنا کنٹرول بڑھا کر 70 فیصد تک کرنے کی ہدایت کی ہے۔ نیتن یاھو نے نشاندہی کی کہ اسرائیلی افواج فی الحال پٹی کے تقریباً 60 فیصد رقبے پر قابض ہیں۔

یاد رہے کہ سنہ 2025ء کے اکتوبر میں امریکی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی افواج کا انخلا "یلو لائن" تک طے پایا تھا، جس نے اسرائیل کو پٹی کے تقریباً 53 فیصد رقبے پر کنٹرول دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں