اسرائیل کے ساتھ جامع امن نہیں عدم جارحیت کا معاہدہ چاہتے ہیں: لبنانی صدر
فوجی حل آپ کو تحفظ اور امن فراہم نہیں کریں گے: جوزف عون کا اسرائیلیوں سے خطاب
لبنانی صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کا معاہدہ طے پانے سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ملاقات نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عدم جارحیت کا معاہدہ یا سکیورٹی معاہدہ یا کچھ اور ہوگا۔ یہ ایک جامع امن معاہدہ نہیں ہوگا۔
جوزف عون نے سی این این کی جانب سے نشر کیے گئے ایک انٹرویو میں اسرائیلی حکومت اور عوام سے ایک نادر عوامی اپیل بھی کی جس میں انہوں نے کہا کہ فوجی حل آپ کو اور شمال کے باشندوں کو تحفظ اور امن فراہم نہیں کریں گے۔
جوزف عون نے مزید کہا کہ ہم تیار ہیں، پرعزم ہیں اور خواہش مند ہیں، تو کیا آپ بھی ایسے ہی ہیں؟ اگر آپ تیار ہیں تو آئیے بیٹھیں اور بات کریں۔ اگر آپ کی خواہش نہیں ہے، تو ہم امن و امان سے نہیں رہ سکیں گے۔ لبنان اور اسرائیل کے مذاکرات، جو گزشتہ 14 اپریل کو امریکی وزارت خارجہ میں شروع ہوئے تھے، رواں ماہ کی 22 تاریخ کو دوبارہ شروع ہونے والے ہیں۔
گزشتہ منگل اور بدھ کو مذاکرات کے چوتھے دور کے خاتمے کے بعد لبنان، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں اعلان کیا گیا تھا کہ اسرائیل اور لبنان نے جنگ بندی کے نفاذ پر اتفاق کیا ہے۔ جنگ بندی کا انحصار حزب اللہ کی جانب سے فائرنگ کے مکمل خاتمے اور جنوبی لیطانی کے علاقے سے حزب اللہ کے تمام ارکان کے انخلا پر ہے۔ یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب بیروت میں امریکی سفیر میشال عیسیٰ نے پیر کے روز لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ لبنانیوں کی تکالیف کو ختم کرنے کے لیے پیش رفت حاصل کرنے میں مددگار ہے۔
لبنانی صدر جوزف عون سے ملاقات کے بعد میشال عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے لبنانی-امریکی-اسرائیلی مذاکرات کے عمل اور لبنان میں موجودہ صورتحال کے خاتمے کے حوالے سے اس میں شامل امور پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات واشنگٹن میں دوبارہ شروع ہونے والے ہیں اور میرے لیے لبنانی مذاکراتی ٹیم کی تعریف کرنا اہم ہے جو انتہائی پیشہ ورانہ مہارت اور تاثیر کی حامل ہے اور ٹیم کے ارکان لبنانی فائل پر واضح اور کھلم کھلا بات کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم لبنانی معاملے کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور صدر ٹرمپ ہمیشہ لبنان کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ یہ ایک اہم عنصر ہے جسے لبنانیوں کو مدنظر رکھنا چاہیے کیونکہ امریکی صدر روزانہ کی بنیاد پر لبنانی کے مسئلے کی نگرانی کرتے ہیں۔ خاص طور پر چونکہ صدر جوزف عون نے مذاکرات کا انتخاب کیا ہے۔ یہ ایک ایسا راستہ ہے جس کی ہم حمایت کرتے ہیں اور یہ لبنانیوں کی تکالیف کو ختم کرنے کے لیے پیش رفت حاصل کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔
امریکی سفیر نے مزید کہا کہ ہم ایک ایسے مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ برف پگھل چکی ہے اور ہم لبنان کے بحران سے نکلنے میں اس کی مدد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مذاکرات میں وقت لگ سکتا ہے کیونکہ یہ توقع نہیں کی جاتی کہ تمام مسائل ایک ہی ملاقات میں حل ہو جائیں گے ۔ ان مذاکرات کا تسلسل لبنان اور خطے کے عمومی عمل پر مثبت اثر ڈال رہا ہے۔