سعودی عرب ماحولی سیاحت کے شعبے میں اپنی سرمایہ کاری کو ان معیاری منصوبوں کے ذریعے مسلسل وسعت دے رہا ہے جن کا مقصد قدرتی اور ماحولی اہمیت کی حامل جگہوں کو پائیدار سیاحتی مقامات میں تبدیل کرنا ہے۔ یہ اقدام عالمی سیاحتی نقشے پر مملکت کی موجودگی کو مستحکم کرنے اور معیشت کو متنوع بنانے اور سیاحتی شعبے کی ترقی کے لیے ویژن 2030 کے اہداف کی حمایت کرتا ہے۔
نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف ڈویلپمنٹ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو مخصوص سیاحتی تجربات کو فروغ دینے کے نئے منصوبوں کے بارے میں بتایا ہے جن میں سفاری، پرندوں کا مشاہدہ اور جنگلی حیات سے منسلک سمندری تجربات شامل ہیں۔ یہ سب ایک ایسے قومی ماڈل کے تحت ہو رہا ہے جو حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور پائیدار اقتصادی فوائد کے حصول کو آپس میں جوڑتا ہے۔
مرکز نے وضاحت کی کہ اس کے منصوبوں کا مقصد ماحولی سیاحت کے لیے ایک ایسا قومی ماڈل بنانا ہے جو حیاتیاتی تنوع کی سرمایہ کاری پر انحصار کرے۔ مزید یہ کہ ماحولی اہمیت کی حامل جگہوں کو ایسے مقامات میں تبدیل کرے جو سیاحوں کو ان کے قدرتی مسکن میں جنگلی حیات کو دریافت کرنے کا موقع فراہم کریں۔ ان منصوبوں میں وائلڈ لائف سفاری کے تجربات، پرندوں کے مشاہدے کے علاقے اور مخصوص جنگلی حیات کی اقسام کے لیے خصوصی محفوظ علاقے تیار کرنا شامل ہے اس کے علاوہ مملکت کے کئی قدرتی مقامات میں سمندری حیات سے منسلک موسمی تجربات بھی شامل ہیں۔ مرکز نے اشارہ کیا کہ ان مقامات کو منظم راستوں، دیکھنے کے مقامات اور تیار سہولیات کے ذریعے چلایا جائے گا جو قدرتی مسکن کے تحفظ اور جانداروں کی سلامتی کا خیال رکھیں گی۔
مرکز نے اس بات پر زور دیا کہ مملکت جنگلی حیات پر مبنی سیاحت کے میدان میں عالمی سطح پر صف اول کے ممالک میں شامل ہونے کے لیے کوشاں ہے۔ یہ کوشش مملکت میں موجود بری اور بحری ماحول کے غیر معمولی تنوع اور قدرتی مسکن کے تحفظ اور جنگلی انواع کی افزائش میں مسلسل توسیع پر مبنی ہے۔ مزید یہ کہ یہ نئے منصوبے مقامی انواع اور سعودی قدرتی ماحول کی دولت پر مبنی معیاری سیاحتی تجربات فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔
مرکز نے نشان دہی کی کہ ماحولی سیاحت مہمان نوازی اور سیاحتی خدمات کی سہولیات کو چلا کر، پائیدار تجربات ڈیزائن کر کے اور فطرت اور ثقافت سے منسلک مقامی مصنوعات تیار کر کے نئی اقتصادی راہیں کھول رہی ہے۔ یہ منصوبے مقامی برادریوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، نجی اور غیر منافع بخش شعبے کی شرکت کو متحرک کرنے اور آمدنی کے ذرائع کو متنوع بنانے میں بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں، جس سے قومی معیشت میں قدرتی وسائل کا حصہ بڑھتا ہے۔
موجودہ منصوبوں کے حوالے سے مرکز نے وضاحت کی کہ توسیعی منصوبوں میں طائف اور ثادق کے صوبوں میں سفاری مقامات کی ترقی اور کئی محفوظ علاقوں اور نیشنل پارکس میں پرندوں کے مشاہدے کے نئے مقامات شامل ہیں۔ منصوبوں میں منتخب سمندری مقامات بھی شامل ہیں، جن میں فرسان آئی لینڈز ریزرو کے مقامات شامل ہیں، جہاں پرندوں اور سمندری حیات کا مشاہدہ کیا جا سکے گا۔ یہ سب ایسے معیارات کے تحت کیا جائے گا جو ماحولی توازن کو متاثر کیے بغیر منظم دوروں کی گنجائش رکھتے ہوں۔ مرکز نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان مقامات کا انتخاب خصوصی ماحولی مطالعات کے مطابق کیا گیا ہے تاکہ قدرتی مسکن کی پائیداری کو برقرار رکھتے ہوئے اور جنگلی حیات کی حفاظت کرتے ہوئے سیاحتی فوائد حاصل کیے جا سکیں۔
-
سعودی عرب میں حکومت کی جانب سے ستمبر تک دھوپ میں کام کرنے پر پابندی کا آغاز
سنہ 2025ء میں فیصلے پر عمل درآمد کی شرح 94 فیصد ریکارڈ
مشرق وسطی -
سعودی تعاون سے یمنی وزارت مواصلات کے عملے کے لیے تربیتی پروگرام کا انعقاد
یمن کی ترقی و تعمیر نو کے سعودی پروگرام کے تحت ادارہ جاتی صلاحیتوں کی تعمیر میں ...
مشرق وسطی -
سعودی یونیورسٹی کے محققین نے کینسر کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی تیار کرلی
مشہور سائنسی جریدے ’’ ایڈوانسڈ سائنس ‘‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ...
مشرق وسطی