پاکستان: وزارت عظمی کی 'ہیٹ ٹرک کا معجزہ' ہضم نہیں ہو رہا

حکومتی استحکام میں دراڑ آ سکتی ہے، غزہ یکجہتی اک خیر کا پہلو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

طویل جلا وطنی کے بعد پاکستان کے ایک رہنما کو اقتدار مل جانے کے معجزے کے ازالے کے لیے مختلف سطحوں پر جاری کوششیں تیز تر ہو گئی ہیں۔ ان کوششوں کے نتیجے میں وزیر اعظم میاں نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کی ہیٹ ٹرک ہو نہ ہو مضبوط وزیر اعظم کی حکومت و سیاست میں دراڑ ضرور آنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ اس سارے شر سے ایک خیر کی بات غزہ کے شہداء کے حق میں سامنے آ گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کا 68 واں یوم آزادی جوں جوں قریب آ رہا ہے سیاسی درجہ حرارت میں تیزی آ گئی ہے۔ اس سیاسی درجہ حرارت کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اگرچہ حکومتی، سیاسی اور مکالماتی سطح پر سرگرمی جاری ہے لیکن یہ حقیقت اب تسلیم کیے جانا کسی کے لیے بھی مشکل نہیں کہ کوششیں اس وقت شروع کی گئی ہیں جب نتائج کا موسم تھا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق دیر سے سہی اب سیاسی پیغام رسانوں اور قائدین کے ذریعے وزیر اعظم سے استعفا طلب کرنے والے عمران خان کو پیغام پہنچایا جا رہا ہے کہ انتخابی شفافیت کے لیے حکومت ان کی جماعت اور دیگر سٹیک ہولڈروں کے ساتھ مل بیٹھنے کا تیار ہے لیکن اس شفافیت کا اہتمام آئندہ انتخاب سے ہونا چاہیے اور جہاں تبدیلی ضروری ہو حکومت اس پر تیار ہو گی۔

یہ پیغام رساں سیاسی رہنما یہ بات بھی کر رہے ہیں جہاں تک چار حلقوں یا دیگر متنازعہ حلقوں کے انتخابی نتائج کا معاملہ ہے حکومت تحریک انصاف کے ساتھ مل کر اس کا راستہ تلاش کرنے کو تیار ہے کہ عدالت میں زیر سماعت معاملہ میں کیونکر مداخلت کی جا سکتی ہے؟ حکومت یہ پیغام پہنچا رہی ہے کہ ان حلقوں کے بارے میں شکایات کا ازالہ عدالتوں نے کرنا تھا، اس میں حکومت تاخیر کا باعث نہیں بنی ہے۔

لیکن دوسری جانب تحریک انصاف کو 'آزادی مارچ' اب واضح طور پر حکومت کے لیے سونامی بننے کا انداز اختیار کر چکا ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور ان کی جماعت کے بعض رہنما چار سال بعد اپنی جماعت کے لیے اتخابات میں کم تر حصہ دیکھتے ہوئے ابھی سے حالات کے دھارے کو اپنے حق میں کرنا از بس ضروری سمجھتے ہیں۔

اس سلسلے میں منہ زور اور غصیلے کینیڈا پلٹ 'انقلابی' ڈاکٹر طاہر القادری کے علاوہ سرد و گرم چشیدہ چوہدری برادران عمران خان کے لیے سراپا حاضر ہیں۔ ایک پورا گروہ سیاستداناں ایسا ہے جو اب ورنہ کبھی نہیں کی سوچ کے تحت ایوان اقتدار کی طرف فی الفور لپکتا نظر آ رہا ہے۔

لیکن مسلم لیگ نواز کی جماعت جو اپنی حکومت کے آتے ہی عملا ''شیلف'' کر دی گئی تھی اس کے اندر ایک پارٹی کے طور پر مقابلہ کرنے کا داعیہ کمزور کر دیا گیا ہے۔

ایسے میں مسلم لیگی حکومت کو جن بڑی جماعتوں کی حمایت ملی نظر آتی ہے ان کا قابل اعتماد ہونے کا معاملہ خود نواز لیگ کے لیےاکثر مشکوک رہا ہے۔ اب بہرحال انہی پر بھروسہ مجبوری ہے۔

ان میں آصف علی زرداری کی پیپیلز پارٹی، مولانا فضل الرحمان کی جمعیت علماء اسلام اور الطاف حسین کی متحدہ کے علاوہ بار بار اتحادی رہنے والی اور بار ناراضی تک پہنچنے والی جماعت اسلامی بھی شامل ہے۔

ان جماعتوں کے موقف کو دیکھتے ہوئے یہ خطرہ تو کم ہے تحریک انصاف کا آزادی مارچ حکومت کو گرا دے، طاہر القادری کا انقلاب حاوی ہو جائے لیکن حکومت کے اب تک کے اقدامات کے نتائج بالعموم منفی اور مکالمے کا آغاز تاخیر سے ہونا حکومتی استحکام اور اعتماد کو متزلزل ضرور کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

اس سارے عمل میں خیر کا ایک پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ بالآخر پاکستان کی جمہوری حکومت اور سیاسی جماعتوں نے غزہ میں بہنے والے خون کا احساس کر لیا ہے۔

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے بھی اس اہم ملی مسئلے پر اپنی تجویز وزیر اعظم تک پہنچانے میں اتنی دیر کی۔ بہرحال اب سترہ اگست کو پاکستان میں غزہ کے فلسطینیوں کے ساتھ قومی سطح پر اطہار یکجہتی ہو گا۔ یہ زبانی حد تک ایک پیش رفت ضرور ہو گی۔

درایں اثنا دفتر خارجہ کی خاتون ترجمان نے جمعرات کے روز ہفتہ وار بریفنگ دینے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان، فلسطین کے مسئلے پر ہر ممکن کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم اسلامی ممالک کے سربراہان کا اجلاس طلب کرنے سے متعلق کوئی تجویز زیرِ غور نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان نے غزہ کے متاثرین کی مدد کے لیے دس لاکھ ڈالر امداد بھیجی ہے۔

ملک میں بعض دائیں بازو کی سیاسی و مذہبی جماعتیں پاکستان سے اکلوتی جوہری قوت ہونے کے ناطے اسلامی دنیا کی رہنمائی کرتے ہوئے او آئی سی کا سربراہ اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کرے رہی ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وزارت عظمی تک پہنچنے کی 'ہیٹ ٹرک' کرنے والے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو مدت پوری کرنے دی جائے گی یا ان کے خلاف بھی ہیٹ ٹرک کا ریکارڈ قائم ہو گا۔

اگرچہ اس سلسلے میں وزیر اعظم کی ٹیم کے لیے اپنی ایک سالہ کارکردگی کی سمت کا جائزہ نہ لینا بجائے خود ایک خطرناک بات ہو گی کہ پاکستان میں حکومتی انتخابی منشور کے مطابق پانچ برسوں کو کامیاب بنانے کے بجائے سالوں، شالوں کو کامیاب بنانے کے لیے فٹ کانٹا بدل کر اگلے پانچ سال پکے کرنے میں لگ جاتی ہیں یہی کوشش ان کی جاری مدت کو کم کرنے کا باعث بن جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں