شمالی وزیرستان ڈرون حملہ، آٹھ شدت پسند ہلاک
پاکستان کے شمال مغربی قبائلی علاقے میں ہفتہ عسکریت پسندوں کے ایک کمپاؤنڈ پر مشتبہ امریکی ڈرون طیاروں سے کیے گئے نئے میزائل حملوں میں سکیورٹی حکام کے مطابق کم سے کم آٹھ مشتبہ عسکریت پسند ہلاک ہو گئے۔
پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور سے موصولہ نیوز ایجنسی 'اے ایف پی' کی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ یہ میزائل حملے افغان سرحد کے قریب قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شوال کے مقام پر کیے گئے، جہاں پاکستانی سکیورٹی دستے پہلے ہی مقامی طالبان اور ان کے حامی غیر ملکی عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک اعلٰی سکیورٹی اہلکار نے بتایا، ’’ان ڈرون حملوں میں کم از کم آٹھ مشتبہ دہشت گرد مارے گئے۔‘‘ اس کے علاوہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں بھی ایک سینیئر سکیورٹی اہلکار نے اس کارروائی اور اس میں آٹھ ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے۔
شمالی وزیرستان میں پاکستانی خفیہ اداروں کے مقامی اہلکاروں نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ جن شدت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا، وہ مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کے اس حقانی نیٹ ورک کے جنگجو تھے، جس کی طرف سے سرحد پار افغان علاقے میں اکثر غیر ملکی فوجیوں پر حملے کیے جاتے ہیں۔
خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے مزید کہا، ’’جس وقت امریکی ڈرون طیاروں نے میزائلوں سے اس کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا، اس وقت وہاں عسکریت پسندوں کا ایک اہم اجلاس ہو رہا تھا۔‘‘
واضح رہے کہ شمالی وزیرستان پاکستان کی افغانستان کے ساتھ سرحد کے قریب ان سات نیم خود مختار قبائلی علاقوں میں شامل ہے، جو 2000ء کے بعد کئی سالوں تک طالبان عسکریت پسندوں اور ان کے ہم خیال القاعدہ نیٹ ورک کے جنگجوؤں کی کارروائیوں کا مرکز سمجھے جاتے تھے۔
اس علاقے میں عام طور پر صحافیوں کو جانے کی اجازت نہیں دی جاتی اور اسی وجہ سے وہاں ہونے والی مسلح جھڑپوں، سکیورٹی آپریشن یا انسانی ہلاکتوں کی غیر جانبدارانہ ذرائع سے تصدیق انتہائی مشکل ہے۔
پاکستانی سکیورٹی دستوں نے شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کے خاتمے کے لیے مسلح آپریشن گزشتہ برس جون میں شروع کیا تھا، جسے اب ایک سال ہو گیا ہے۔
یہ فوجی آپریشن کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر طالبان کے اس حملے کے بعد شروع کیا گیا تھا، جس کے بعد اسلام آباد حکومت کی تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے داخلی بدامنی کے مسئلے کا حل نکالنے کی کوششیں ناکام سمجھی جانے لگی تھیں۔
شمالی وزیرستان میں یہ فوجی آپریشن گزشتہ برس دسمبر میں پشاور میں ایک آرمی پبلک اسکول پر کیے گئے طالبان کے اس حملے بعد تیز تر کر دیا گیا تھا، جس میں زیادہ تر اسکول کے بچوں سمیت 153 افراد مارے گئے تھے۔
-
پاک افغان سرحد پر امریکی ڈرون حملہ،9 مشتبہ جنگجو ہلاک
امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے نے پاکستان کی سرحد کے نزدیک واقع افغانستان کے ...
پاكستان -
شمالی وزیرستان:گل بہادر گروپ پر امریکی ڈرون حملہ
2015ء کے پہلے ڈرون حملے میں آٹھ مشتبہ جنگجوؤں کی ہلاکت
پاكستان -
شمالی وزیرستان میں ڈرون حملہ، سات شدت پسند ہلاک
پاکستان کے شمال مغربی قبائلی علاقے میں ایک امریکی ڈرون حملے میں سات شدت پسند ہلاک ...
پاكستان