پاکستان کی کرنسی کی قدر میں روزبروز کمی کا سلسلہ جاری ہے اور جمعرات کو ڈالر کےانٹربینک ریٹ ملکی تاریخ میں پہلی بار 230 روپے سے تجاوز کر گئے ہیں۔
ملک میں یومیہ بنیادوں پر معاشی چیلنجز میں اضافے، کمرشل بینکوں کی جانب سے آئل امپورٹ لیٹر آف کریڈٹس زرمبادلہ کی مہنگی لاگت پر کھولنے کی خبروں کے باعث ڈالر کی تیز رفتار پرواز جاری ہے۔
انٹربینک مارکیٹ میں سپلائی نہ ہونے کے باوجود بڑھتی ہوئی مانگ کے نتیجے میں ڈالر کے انٹربینک ریٹ 5.10 روپے کے اضافے سے 230.01 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سٹے باز منفی افواہیں پھیلاکر ڈالر میں سٹے بازی کر رہے ہیں جبکہ بینک دولت پاکستان نے روپے کی قدر میں نمایاں کمی کے عوامل کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ متحرک مارکیٹ پر مبنی شرح مبادلہ کے نظام کے تحت جاری کھاتے کی صورتحال، متعلقہ خبروں اور اندرونی بے یقینی مل کر یومیہ بنیادوں پر روپے کی قدر میں تبدیلی کا سبب بن رہی ہے۔
مرکزی بینک کا موقف ہے ڈالر کی قدر امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے افراط زر پر قابو پانے کے لیے شرح سود میں جارحانہ اضافے کا بھی نتیجہ ہے۔
-
انٹربینک میں ڈالر تاریخی قیمت 221 روپے تک پہنچ گیا
پاکستانی روپے کی قدر میں پانچ روپے 81 پیسے کی کمی
پاكستان -
امریکی ڈالر 214 روپے سے تجاوز کر گیا
پاکستانی روپے کی قدر میں 3 روپے 25 پیسے کی کمی
پاكستان -
گزشتہ مالی سال میں بیرون ملک سے31 ارب 20 کروڑ ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات
سمندر پار پاکستانیوں نے سال 2020-21 کے مقابلے میں 6٫1 فی صد زائد رقوم بھیجیں: ...
بين الاقوامى