عدت میں نکاح کے مقدمے کی سماعت کے دوران عمران خان کے نکاح خواں مفتی سعید نے عدالت میں اپنا بیان حلفی جمع کروا دیا۔
اسلام آباد کی مقامی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں جج نصر من اللہ بلوچ کی عدالت میں درخواست گزار محمد حنیف کی استدعا پر کیس کی جلد سماعت کی درخواست منظور کر لی۔
عمران خان کے نکاح خواں نے عدالت میں پیش ہو کر بتایا کہ ان کا عمران خان کے ساتھ قریبی تعلق تھا جس کے سبب انہیں عمران خان یکم جنوری کو لاہور چل کر نکاح پڑھانے کو کہا۔
مفتی سعید کے مطابق انہوں نے قریبی رشتہ داروں سے دریافت کیا کہ نکاح شرعی طور پر ہو سکتا ہے تو انہیں تمام شرائط کے مکمل ہونے کی یقین دہانی کروائی گئی۔
نکاح خوان کے مطابق انہیں ایک ماہ بعد عمران خان نے ایک ماہ بعد فون کر کے بتایا کہ بشریٰ بی بی کی عدت کی مدت پوری نہیں ہوئی اور انہوں نے ایک پیش گوئی کے سبب یکم جنوری 2018 کو اپنا نکاح جلدی کروا لیا تھا۔
نکاح خواں کے مطابق یہ پیش گوئی تھی کہ اگر نکاح یکم جنوری کو ہو جائے گا تو عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھال سکیں گے۔
مفتی سعید کا کہنا تھا کہ انہوں نے دوبارہ فروری 2018 میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کا نکاح پڑھایا۔ انہوں نے اپنے قیاس کا اظہار کیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی نے دانستہ طور پر اپنے عدت سے قبل نکاح کیا تاکہ پیش گوئی کو مکمل کیا جاسکے۔
-
عمران خان کی ویڈیو لنک پیشی سے متعلق درخواست پر فریقین سے مزید دلائل طلب
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین ...
پاكستان -
عمران خان پر حملہ کیس کے مدعی ایس ایچ او کو دل کا دورہ جان لیوا ثابت ہوا
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان پر حملہ کیس کے مدعی ایس ایچ او عامر بھدر ہارٹ اٹیک ...
پاكستان -
توشہ خانہ کیس: عمران خان 11 اپریل کو اسلام آباد سیشن کورٹ طلب
اسلام آباد کی عدالت نے توشہ خانہ فوجداری کارروائی کیس میں الیکشن کمیشن کی درخواست ...
پاكستان