بنوں میں دوسرے روز بھی دھرنا جاری ، اپوزیشن جماعتوں کاعدالتی کمیشن قائم کرنےکا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پاکستان کے شمال مغربی صوبے کے پی میں اتوار کے روز بھی مسلسل دوسرے دن دھرنا جاری ہے۔ یہ دھرنا بنوں شہر میں جاری ہے۔ جہاں دو روز قبل امن مارچ کے دوران گولی چل جانے سے کم از کم 2 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے۔ گولی چلنے کے بعد ہزاروں کی تعداد میں موجود مظاہرین میں بھگدڑ مچ گئی۔

یہ امن مارچ افغانستان سے جڑے پاکستانی صوبے خیر پختونخوا کے شہر بنوں میں منعقد کیا گیا۔ جب پے در پے دہشت گردی کے کئی واقعات سامنے آئے۔ ان میں سے ایک واقعہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز پر حملہ تھا۔ جس میں 10 سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوگئے۔ اس سے پہلے سرکاری حکام اور پولیو ٹیمز پر بھی حملے ہوچکے ہیں۔

ان آئے روز ہونے والے دہشتگردانہ حملوں سے بچانے کے لیے امن مارچ کیا گیا۔ امن مارچ کے شرکاء حکومت سے مطالبہ کر رہے تھے کہ شہریوں کو دہشت گردانہ حملوں سے تحفظ دیا جائے۔ بنوں میں دھرنا دینے والے شرکاء یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ صوبے میں نیا شروع کیا گیا فوجی آپریشن ختم کیا جائے۔

صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے 'اس سلسلے میں مقامی عمائدین اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان بات چیت چل رہی ہے کہ علاقے میں پائیدار بنیادوں پر امن بحال کیا جائے۔'

اس سلسلے میں وزیر اعلی کے پی اور عمائدین کے درمیان جلد ایک ملاقات متوقع ہے۔ جس میں صوبے میں امن و امان کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا ۔تاکہ دہشت گردی کے واقعات کی حکومت اور عوام مل کر روک تھام کر سکیں۔

بعض مقامی سیاستدان سیکورٹی فورسز پر الزام لگاتے ہیں کہ فائرنگ کا واقعہ سیکورٹی فورسز کی وجہ سے ہوا۔ اس بارے میں دھرنے کے شرکا نے ایک 30 رکنی کمیٹی تشکیل ڈی ہے جو حکومت سے بات کرے گی اور اپنے موقف سے آگاہ کرے گی۔

دھرنے کے شرکا میں شامل ایک شہری دل نواز نے کہا ' بنوں ضلع سے تعلق رکھنے والے قبائل کو تیس رکنی کمیٹی میں نمائندگی دی گئی ہے۔ یہ کمیٹی ایک بااختیار کمیٹی ہے ۔جو حکومت سے مذاکرات اور اپنے مطالبات کے لیے ذمہ دار ہے۔

دل نواز کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں کے علاوہ ملحقہ اضلاع سے زعما نے اتوار کے روز دھرنے کے شرکا سے ملاقات کی اور انہیں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن حمایت کا یقین دلایا ۔

انہوں نے بتایا تیس رکنی کمیٹی میں مقامی قبائل کے بڑے وکلا تاجر نمائندے اور مذہبی رہنما سب شامل ہیں۔ ہمارا احتجاج مکمل طور پر پرامن ہے اور امن ہی کے لیے ہے۔ دل نواز نے زور دے کر کہا۔

اپوزیشن جماعتوں کے چھ رکنی اتحاد سمیت تحریک تحفظ آئین پاکستان نے عدالتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں