پاکستان : فوجی عدالت نے 60 شہریوں کو 2 سے 10 سال تک کی سزائے قید سنا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پاکستان میں فوجی عدالت نے 60 شہریوں کو جمعرات کے روز 2 سے 10 سال تک کی سزائے قید سنانے کے فیصلے کا اعلان کیا ہے۔ یہ شہری پاکستان تحریک انصاف کے قائد اور سابق وزیراعظم عمران خان کی 2023 ماہ مئی میں گرفتاری کے خلاف احتجاج کے دوران فوجی تنصیبات پر حملہ آور ہونے کے الزام میں مقدمات میں ماخوذ تھے۔

اس سے پہلے بھی اسی واقعے اور انہی الزامات کے تحت 25 شہریوں کو سزائے قید سنائی جا چکی ہے۔ جن میں 2 ریٹائرڈ فوجی افسر بھی شامل ہیں۔

ان سب کا پاکستان کی سب سے مقبول جماعت تحریک انصاف سے تعلق ہے۔ جنہوں نے مئی 2023 میں ملک کے کئی چھوٹے بڑے شہروں میں عمران خان کی گرفتاری کے خلاف اچانک احتجاج شروع کر دیا تھا۔

پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے نے اس بارے میں کہا ہے کہ حکومت اور مسلح افواج انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے پوری کمٹمنٹ کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور ریاستی رٹ کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا۔

فوجی عدالت کی طرف سے ان سزاؤں کے سنائے جانے کے بعد عمران خان کے حامیوں میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے کہ آئندہ دنوں فوجی عدالت ہو سکتا ہے کہ عمران خان کو بھی اسی طرح مقدمے میں لپیٹ لے۔ جن پر کئی قسم کے مقدمات حکومت کی برخاستگی کے بعد درج کیے جا چکے ہیں۔ جن میں ایک الزام مسلح افواج کے خلاف اشتعال انگیزی کرنا ہے۔

ان کے بعض حامی وکلاء کا کہنا ہے کہ عمران خان کے خلاف پچھلے ڈھائی سال کے درمیان لگ بھگ 200 مقدمات درج کیے گئے ہیں اور وہ پچھلے سال ماہ مئی سے مسلسل جیل میں ہیں۔

ان کے پارٹی کارکنوں اور عہدیداروں کو فوجی عدالت سے سزا سنائے جانے پر امریکہ نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ بین الاقوامی برادری نے بھی اسے انسانی حقوق کے حوالے سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ عام شہریوں کو فوجی عدالتوں میں گھسیٹنا درست نہیں کہ اس سے شفافیت، آزادی اور قانونی دفاع کا حق متاثر ہونے کا احتمال ہوتا ہے۔

یورپی یونین نے بھی سیاسی کارکنوں کو فوجی عدالت کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں پر گہری تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان میں ایسا ہونا انسانی حقوق کے بین الاقوامی کنونشن پر دستخط کنندہ ہونے کے ناطے مناسب نہیں ہے۔

بدھ کے روز وزیر اطلاعات نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ فوج کی طرف سے ملنے والی یہ سزائیں کسی بھی طرح منصفانہ عدالتی ٹرائل کے خلاف نہیں ہیں کیونکہ ان فوجی عدالتوں میں بھی ہر شخص کو اپنا وکیل لے جانے کا پورا حق دیا جاتا ہے۔ جبکہ سزا کے ملنے کے بعد کوئی بھی ملزم فوجی عدالت کے علاوہ سول عدالت میں بھی اپیل دائر کر سکتا ہے۔

دوسری جانب سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کے سیاسی رفقاء یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ انہوں نے ایسا کوئی جرم نہیں کیا جس کی انہیں سزا دی جا رہی ہے اور یہ سارے مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ہیں۔

جبکہ حکومت اور فوج کا بھی یہی مؤقف ہے کہ ان کی طرف سے عمران خان اور ان کے حامیوں کے ساتھ کوئی نا انصافی اور ناجائز سلوک نہیں کیا جا رہا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں