بھارت نے شہریوں اور مساجد پر حملہ کیا، دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر نہیں: وزیر دفاع پاکستان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

پاکستان کے وزیرِ دفاع نے کہا ہے کہ پہلگام حملے کے جواب میں بھارتی میزائلوں نے صرف شہریوں اور مساجد کو نشانہ بنایا اور مزید کہا ہے کہ ان کے ملک میں دہشت گردوں کے کوئی ٹھکانے یا تربیتی کیمپ نہیں ہیں۔

بھارت نے حالیہ پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر لگایا اور پھر بدھ کو پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں جوابی میزائل حملے کیے جسے اس نے "دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے" پر حملہ قرار دیا۔

العربیہ پر ڈبلیو نیوز کی Leigh-An Gerrans کو دیئے گئے انٹرویو میں خواجہ آصف نے جمعرات کو بھارتی دعوؤں کی تردید کی اور کہا کہ بھارت نے صرف "شہری آبادیوں اور چند مساجد کو نشانہ بنایا"۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں طرف کے شہریوں کی زندگیوں کے حوالے سے تشویش ہے کیونکہ "ہر گذرتے گھنٹے کے ساتھ کشیدگی مزید بڑھتی جا رہی ہے۔"

وزیر دفاع نے تصدیق کی کہ لائن آف کنٹرول پر جھڑپوں کے دوران بھارت کی جانب ہلاکتیں ہوئیں جبکہ بھارت نے اس دعوے کو غلط معلومات قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر جھڑپوں کے دوران کئی بھارتی فوجی ہلاک اور دو بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ ہو گئے۔

خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ جمعرات کو ڈرون حملوں کی زد میں آنے والے درجنوں دیگر مقامات کے علاوہ بھارت نے راولپنڈی، لاہور اور کراچی میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔

غیر مسلح شہریوں کے تحفظ کی ضرورت کے بارے میں بات کرتے ہوئے پاکستانی وزیر نے کشیدگی میں اضافے کا الزام بھارت پر عائد کیا۔

انہوں نے مزید کہا، "لیکن گذشتہ تین دنوں میں جو کچھ ہوا ہے تو بھارت پہلے ہی [اس محاذ آرائی] کو اس حد تک بڑھا چکا ہے جہاں سے واپس پلٹنا قدرے مشکل ہو گا۔"

آصف نے کہا، دنیا کی ہر قوم کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے لیکن بھارت پہلگام حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت فراہم کیے بغیر کارروائی کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا، "ان کے پاس ثبوتوں کا ایک ٹکڑا بھی نہیں ہے۔ میڈیا یا بین الاقوامی برادری کے سامنے ایک ذرہ بھی ثبوت پیش نہیں کیا گیا کہ اس افسوسناک واقعے کی پاکستان نے پشت پناہی کی یا اس کا ارتکاب کیا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں