پاکستان کا بین الاقوامی شراکت داروں سے بھارت کو کشیدگی میں کمی کا پابند بنانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے جمعے کے روز بتایا ہے کہ ملٹری آپریشنز کے ڈائریکٹر جنرل، گزشتہ ہفتے دونوں ممالک کے درمیان جاری فائر بندی کے بعد سے اپنے بھارتی ہم منصب کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔

وزارت کے مطابق، دونوں فریقوں نے کشیدگی کو بتدریج کم کرنے کے لیے ایک طریقہ کار پر اتفاق کیا ہے۔

بیان میں پاکستان نے بین الاقوامی شراکت داروں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کو فائر بندی کی پاسداری کا پابند بنائیں۔

دوسری جانب، برطانوی خبر رساں ادارے نے چار ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ بھارت دریائے سندھ سے پاکستان کے لیے مختص پانی کا حصہ کم کرنے کے منصوبے پر غور کر رہا ہے۔

اس سے قبل جمعرات کو پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ بھارت کے ساتھ فائر بندی کے معاہدے میں توسیع کر دی گئی ہے، جو اب آئندہ اتوار تک مؤثر رہے گی۔ یہ اطلاع بعض ذرائع ابلاغ نے دی تھی۔

پاک فوج نے بھارتی افواج کی حالیہ فضائی کارروائیوں سے متعلق جانی نقصان کی تازہ تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان حملوں میں 51 افراد جاں بحق اور 199 زخمی ہوئے۔

پاکستانی ٹی وی چینل جیو نیوز کی انگریزی ویب سائٹ کے مطابق، فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے بتایا ہے کہ مرنے والوں میں 11 فوجی اور 40 عام شہری شامل ہیں، جب کہ زخمیوں میں 121 عام شہری اور 78 فوجی اہل کار ہیں۔

آئی ایس پی آر نے ان بھارتی حملوں کو "وحشیانہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی افواج نے بلا جواز فضائی حملے کیے جن کا نشانہ معصوم شہری بنے، جن میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی شامل تھے۔

فوجی ترجمان کے مطابق، پاکستانی افواج نے بھارتی جارحیت کا مؤثر اور فیصلہ کن جواب دیا، اور "آپریشن بنیان مرصوص" کے تحت ٹھوس اور بھرپور جوابی کارروائی کی گئی۔ اس موقع پر شہید فوجیوں اور شہریوں کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا گیا، اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی گئی۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ امریکہ کی ثالثی میں بھارت اور پاکستان نے فوری اور مکمل فائر بندی پر اتفاق کیا ہے۔ اس کی تصدیق اسلام آباد اور نئی دہلی دونوں نے کی تھی۔

یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کی بنیادی وجہ 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والا حملہ تھا، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں