برطانیہ کی طرف سے پانچ سال بعد پاکستانی ایئرلائنز پر پابندیاں ختم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسلام آباد میں برطانیہ کے سفارت خانے نے بدھ کے روز کہا ہےکہ برطانیہ نے پاکستانی ایئرلائنز پر عائد پابندیاں ختم کر دی ہیں۔ اس طرح ملک کی مشکلات کا شکار قومی ایئرلائن سے پانچ سالہ پابندی اٹھا لی گئی ہے۔

پاکسان کے پرچم بردار پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کو جون 2020 میں برطانیہ کے لیے پرواز کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ ایئرلائن کا ایک طیارہ کراچی کی ایک شہری آبادی پر گرنے کے ایک ماہ بعد یہ پابندی لگائی گئی تھی۔ حادثے میں تقریباً 100 افراد ہلاک ہوئے۔

اس تباہی کو پائلٹوں اور ایئر ٹریفک کنٹرول نے انسانی غلطی قرار دیا اور اس کے بعد یہ الزامات سامنے آئے تھے کہ ایئرلائن کے تقریباً ایک تہائی پائلٹوں کے لائسنس جعلی یا مشکوک تھے۔

اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمیشن نے کہا کہ یو کے ایئر سیفٹی کمیٹی نے پاکستان میں ایوی ایشن سیفٹی میں بہتری کے بعد پابندی ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا اور ڈی لسٹ ہونے والی ریاستوں اور ہوائی جہازوں سے متعلق فیصلے "ایک آزاد ایوی ایشن سیفٹی کے عمل کے ذریعے کیے گئے۔"

ہائی کمیشن نے ایک بیان میں کہا، "آزاد اور تکنیکی طور پر چلنے والے اس عمل کی بنیاد پر پاکستان اور اس کے ہوائی جہازوں کو (یو کے ایئر سیفٹی) کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔"

یورپی ریگولیٹرز کے پی آئی اے سے چار سالہ پابندی ہٹانے کے بعد یہ اقدام سامنے آیا ہے اور پاکستانی کی حکومتی ملکیت والی ایئرلائن جنوری میں یورپ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کر چکی ہے۔

پی آئی اے جس میں 7,000 افراد کام کرتے ہیں، پر طویل عرصے سے یہ الزام ہے کہ یہ غیر ادا شدہ بلوں، خراب حفاظتی ریکارڈ اور ریگولیٹری مسائل کی وجہ سے انتہائی خراب طریقے سے چل رہی ہے۔

پاکستان کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ قرضوں میں ڈوبی ہوئی ایئرلائن کی نجکاری کے لیے پرعزم اور خریدار تلاش کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

ایک ممکنہ خریدار کی طرف سے 2024 میں انتہائی کم قیمت لگانے کے بعد ایک معاہدہ ختم کر دیا گیا۔

پی آئی اے 1955 میں اس وقت وجود میں آئی جب حکومت نے خسارے کا شکار کمرشل ایئرلائن کو قومی تحویل میں لے لیا تھا اور 1990 کے عشرے تک یہ تیزی سے ترقی کرتی رہی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں