.

کچھ بھی تو نہیں بدلا

محمد بلال غوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دو افراد کے مابین کسی بات پر جھگڑا تھا، ایک فریق شکایت لیکر پنچایت میں پہنچا تو سرپنچ نے ساری بات سن کر کہا، تم بالکل ٹھیک کہتے ہو، میں تمہارے ساتھ ہوں۔ تھوڑی دیر میں دوسرا فریق داد رسی کے لئے آیا تو سرپنچ نے اس کی بات بھی بہت تحمل سے سنی اور اسے بھی یہی کہا کہ تم حق پر ہو ،میں تمہارے ساتھ ہوں۔ مجھ ایسا کوئی شخص یہ منظر دیکھ رہا تھا، اسے تعجب ہوا تو سرپنچ سے جا کر پوچھا، حضور والا! یہ کیسا انصاف ہے؟ آپ نے دونوں کو ایک ہی بات کہی کہ تم ٹھیک کہتے ہو، دونوں فریق بیک وقت حق پر کیسے ہو سکتے ہیں؟سرپنچ نے نہایت سنجیدگی اور متانت سے تکتے ہوئے کہا، جناب آپ بھی ٹھیک کہتے ہیں، میں آپ کے ساتھ ہوں۔ اگر سربراہ حکومت یعنی وزیر اعظم کو سرپنچ تسلیم کر لیا جائے تو حامد میر پر قاتلانہ حملے سے جنم لینے والی کشیدگی کے تناظر میں ان کی پالیسی بھی کم و بیش یہی ہے۔ ایک دن قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں انہوں نے آئی ایس آئی کی تعریف و توصیف کی اور ملک سلامتی کے لئے اس کی خدمات کو سراہا تو اگلے دن لندن پہنچ کر یہ بیان دیا کہ ان کی حکومت جنگ اور جیو کی بندش کے حق میں نہیں۔ شاید ان کا حال بھی ایسا ہے کہ تلواریں تو کسی اور کے ساتھ ہیں مگر دل کسی اور کے ساتھ۔ حاکمان وقت کی مجبوریاں تو قابل فہم ہیں کہ انہیں ایک ہی سوراخ سے دوسری بار ڈسے جانے کا خوف ہے مگر ہر روز برساتی مینڈکوں کی طرح نکلتے مظاہرین کو ٹر ٹراتے دیکھتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ سلطانی جمہور کی صبح خوش جمال کا سورج طلوع ہوتا دیکھ کر مقتدر حلقوں کے کمزور پڑ جانے کی خوش گمانی تو محض ایک سراب تھا۔ یہ دلاسہ مسحور کُن تو تھا مگر حقیقت سے کوسوں دور کہ اب متحرک و فعال میڈیا اور آزاد عدلیہ کی بدولت ’’میرے عزیز ہم وطنو!‘‘ کی آڑ میں لمن الملک کا ناقوس بجانے والے کسی مہم جوئی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

تلبیس اطلاعات کے فن میں یکتا مقتدر حلقوں نے آناً فاناً نفرتوں کی آگ سلگا کر ثابت کر دیا ہے کہ آج بھی رائے عامہ کو ہموار کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے،وہ جب جس کی موافقت یا مخالفت میں چاہیں تحریک برپا کرنے اور پیالی میں طوفان اُٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آج اس دور میں بھی بعض مذہبی و سیاسی رہنما ان کے پیچھے پیچھے چلتے ہیں، وہ میڈیا ہائوسز جن کی طاقت پر سول سوسائٹی کو ناز ہے ،انہیں بھی ایک کھونٹے سے باندھا جا سکتا ہے۔’’فضائے بدر‘‘ پیدا کر کے ’’فرشتوں‘‘ کو قطار اندر قطار اتارا جا سکتا ہے۔ میں ہر روز یاجوج ماجوج کے لشکر سڑکوں پر نکلتے دیکھتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ شاید ابھی تک ہم قوم نہیں بن سکے، ایک ریوڑ ہی ہیں جسے مکار و عیار چرواہے لاٹھیاں بدل بدل کر ہانکتے پھرتے ہیں، کبھی اسلام کی لاٹھی سے ،کبھی حب الوطنی کے ڈنڈے سے تو کبھی ملکی مفاد کی مہمیز سے۔ آج جن بندوق برداروں کے خلاف طاقتور طبقات صف آراء ہیں، کبھی وہ جہادی بھی پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگایا کرتے تھے۔ان کے جلسوں اور جلوسوں میں بھی ایسے ہی پاک فوج سے یکجہتی کا اظہار کیا جاتا تھا جیسے آج کچھ کالعدم تنظیمیں فوج کے دفاع میں مظاہرے کر رہی ہیں مگر پھر کس نے کس کے ساتھ کیا کیا،یہ سب تاریخ کا حصہ ہے، تو کیا تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے؟

سادہ لوح لوگ سوال کرتے ہیں ،آخر اتنے چینلز میں سے جیو نیوز ہی کیوں کسی کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے؟ اور پھر یکایک سب میڈیا ہائوسز کیوں خلاف ہو گئے آپ کے؟اس سوال کے جواب میں بس اتنا ہی کہنا ہے کہ جب کسی کلاس روم میں بچوں پر رعب و دبدبہ جمانا مقصود ہو تو ٹیچر اس طالب علم کو چپت رسید کرتا ہے جو سب سے زیادہ باغی اور نافرمان ہو۔ اس کو تھپڑ لگتے ہی باقی سب تیر کی طرح سیدھے ہو جاتے ہیں پھر کچھ مہربان پوچھتے ہیں آپ اس ادارے کے سنگ جنگ میں کیوں شریک ہیں جس نے بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہموار کرنے کے لئے ’’امن کی آشا‘‘ جیسی مہمات چلائیں، قابل اعتراض بھارتی پروگرام نشر کئے ...اس نوع کے الزامات کی ایک طویل فہرست ہے۔ بہت سے معاملات میں میڈیا کا مجموعی کردار زیر بحث آ سکتا ہے،اس پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے اور میرے خیال میں پیمرا کو ڈاکخانے کے کردار تک محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس کی تشکیل نو کرنا چاہئے تاکہ کوئی جامع میڈیا پالیسی ترتیب دی جا سکے اور اسے خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے کسی ایسی ٹیلی فون کال کی ضرورت نہیں ہونا چاہئے جس میں کال کرنے والے کا نمبر اسکرین پر نہیں آتا۔ بھارت سمیت کسی بھی ملک سے دوستی کرنی ہے یا دشمنی اس پر اختلاف رائے ہو سکتا ہے لیکن یہ کہاں کا قانون ہے کہ جنرل پرویز مشرف بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائے تو محب وطن لیکن نواز شریف دوستانہ تعلقات کی بات کرے تو اس کی حب الوطنی مشکوک ہو جائے؟ یعنی آپ کریں تو رقص ،کوئی اور کرے تو مُجرا؟ آپ کا ڈاگ تو ٹومی مگر کسی اور کا ڈاگ کتا؟اس کے باوجود کسی کو کسی بھی میڈیا ہائوس کی پالیسی سے غداری کی بو آتی ہے تو عدالتوں سے رجوع کرنا چاہئے اور آج کل یہ جو جنگ گروپ کے خلاف پٹیشنز دائر کرنے کا فیشن چل نکلا ہے اگر ان کی ڈوریں کہیں سے ہلائی نہیں جا رہیں اور یہ لوگ واقعتاً اختلاف رائے رکھتے تھے تو اس سے پہلے بھی عدالتیں آزاد اور خود مختار تھیں۔

اسی طرح دوسرا سوال یہ کیا جاتا ہے کہ آپ تو ایک اسلام پسند قلمکار ہیں،نظریہ پاکستان کا دفاع کرنے والے صحافی، تو آپ وارث میر جسے بنگلہ دیش نے ایوارڈ دیا ،اس کے بیٹے کے حق میں کیوں لڑ رہے ہیں؟ مجھے حامد میر سے نقطہ نظر کا اختلاف ہے اور میں نے ماضی میں بھی اس کا برملا اظہار کیا مگر آج اس کڑے وقت میں، میں کسی اگر مگر کے بغیر کسی چونکہ چنانچہ کے بغیر اس کے ساتھ کھڑا ہوں کیونکہ یہ خود کو مقدس گائے سمجھنے والے صاحبان غرور کی جمہور اور قومی شعور کے خلاف جنگ ہے۔ ہماری اس جدوجہد کا مطمح نظر یہ ہے کہ کوئی معصوم عن الخطاء ہے نہ تنقید سے ماورا۔ اپنی غلطیاں قومی سلامتی کی آڑ میں چھپانے اور غداری کی تہمت لگا کر دھمکانے کا دور لد گیا۔ اس جدوجہد میں حامد میر ایک روشن استعارہ بن چکا ہے۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ کو بھی اس کا مشکور و ممنون ہونا چاہئے کہ بقول جنرل عزیز چند سال پہلے تک فوجی آفیسرز وردی پہن کر باہر نہیں نکل سکتے تھے ،فوج پر ہر طرف سے تنقید کی بوچھاڑ ہو رہی تھی مگر آج حامد میر کو چھ گولیاں لگنے کے بعد ہر طرف فوج کے حق میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ جو لوگ اس پتلی تماشے کو بہت خوبصورتی سے کنٹرول کر رہے ہیں ،انہیں یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ ہر ایکشن کا ایک ری ایکشن ہوتا ہے۔ جب کسی کے حق میں مظاہرے ہوتے ہیں تو ردعمل کے طور پر اس کی مخالفت میں بھی جلسے جلوس نکلتے ہیں ۔اگر یہ سلسلہ شروع ہو گیا تو کہاں جا کر رُکے گا؟ ان مظاہرین کو دیکھ کر میرے لبوں پر یہ شعر مچل جاتے ہیں:

کشتی بھی نہیں بدلی،دریا بھی نہیں بدلا
اور ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا
ہے شوق سفر ایسا اِک عمر سے یاروں نے
منزل بھی نہیں پائی ،رستہ بھی نہیں بدلا

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.