.

دل و دماغ پر چھائی دھند

محمد بلال غوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میرے ہم وطنوں کا خیال ہے کہ اب فیصلہ ہو چکا ،یہ ملک ایسے نہیں چل سکتا مگر مجھے خدشہ ہے کہ خدانخواستہ یہ ملک ایسے ہی چلتا رہے گا۔ سانحہ پشاور نے وقتی طور پر ضرور قوم کو متحد کر دیا تھا لیکن اب پھر وہی سازشی تھیوریاں،وہی بے پرکی اڑائی جا رہی ہیں۔ اس سے افسوسناک بات کیا ہوگی کہ بیمار ذہن کے لوگ اس قیامت خیز واقعہ پر تشکیک میں مبتلاء ہیں اور طالبان کو بری الذمہ قرار دینے کیلئے بیہودہ سوالات اٹھا رہے ہیں۔ اسی طرح کی لغو باتیں کی جارہی ہیں جس طرح ملالہ اور حامد میر پر حملہ کے بعد افسانے تراشے گئے۔ کبھی سوشل میڈیا پر کسی خود کش حملہ آور کی تصویر کو ملالہ کے ساتھ کھڑے برطانوی نشریاتی ادارے کے صحافی کے ساتھ ملا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ غیر ملکی تھا تو کبھی یہ تاویل پیش کی جاتی ہے کہ جو خودکش حملہ آور پکڑے جاتے ہیں ان کے ختنے نہیں ہوئے ہوتے۔ اگر ایسی سازشی تھیوریاں گھڑنے والوں کے پاس وقت ہو تو بریگیڈئر ابو بکر امین باجوہ کی کتاب Inside Wazirstan پڑھ لیں ،یہ جان کر ان کی تشفی ہو جائے گی کہ وزیرستان میں بیشتر بچوں کے ختنے نہیں ہو پاتے۔ اسی طرح ان دفاعی تجزیہ نگاروں کی بھی کمی نہیں جو اس واقعہ کی ذمہ داری بھارت پر ڈال کر شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دبائے دکھائی دیتے ہیں۔

یہ لوگ در اصل حالت انکار میں ہیں اور یہ بات تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں کہ ان کے ’’بچے‘‘ گستاخ اور نافرمان ہو گئے ہیں۔ اسی طرح ہمارے معاشرے میں ایک طبقہ وہ بھی ہے جو اس قتل وغارت کی مذمت تو کرتا ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ وہ جو بچے جو باجوڑ کے مدرسہ تعلیم القرآن میں امریکی حملے کے دوران شہید ہوئے ،کیا وہ مظلوم نہیں تھے؟اللہ کے بندو! وہ بھی ناحق مارے گئے اور جب ڈمہ ڈولا پر حملہ ہوا تو پوری قوم نے اس پر احتجاج کیا۔ وہاں سے رکن قومی اسمبلی ہارون الرشید مستعفی ہو گئے۔ لیکن اگر اس وقت آپ سانحہ پشاور کو کسی اور افسوسناک واقعہ سے نتھی کرنے کی کوشش کریں گے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ آپ اس غم کی حدت اور شدت کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی طرح ایک اور طبقہ ہے جس کا میں نے پہلے بھی ذکر کیا۔ یہ طبقہ کبھی بھارتی سازش کا راگ الاپتا ہے، کبھی ریمنڈ ڈیوس کو مورد الزام ٹھہراتا ہے تو کبھی اس واقعہ کو وزیرستان آپریشن کا ردعمل قرار دیتا ہے۔یہ لوگ دراصل طالبان کے ہمدرداور غم خوار ہیں۔یہ لوگ ہیں تو غیر مسلح لیکن مائنڈ سیٹ کے لحاظ سے طالبان ہی ہیں اور اگر انہیں موقع ملے تو اسی درندگی کا مظاہرہ کریں ۔انہیں ہر بندوق بردار جو جہاد کے نام پر فساد برپا کرتا ہے،وہ ہیرو دکھائی دیتا ہے۔

ان دنوں اس طبقے کی فکری رہنمائی اگرچہ مولانا عبدالعزیز کر رہے ہیں لیکن مذہبی جماعتوں کی صفوں میں ایسے افراد کی کوئی کمی نہیں جو تنظیمی طور پر تو کسی معتدل جماعت سے منسلک ہیں لیکن در حقیقت ان شدت پسندوں کے ہی پیروکار ہیں۔اگر ہم شاخوں کے بجائے جڑیں کاٹنا چاہتے ہیں اور اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر ختم کرنا چاہتے ہیں تو پھر اس مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنا ہو گا۔مرحلہ وار مذہبی شدت پسندی کے جن کو واپس بوتل میں بند کرنا ہو گا۔طالبان کے ہمدردوں کو راہ راست پر لانے یا کم از کم خاموش کرانے کیلئے سماجی دبائو کا ہتھیار بروئے کار لانا ہو گا اور یہ حکمت عملی بھی وضع کرنا ہو گی کہ آئندہ کے لئے اس طرح کی سوچ پروان نہ چڑھ سکے۔ مدارس دہشت گردوں کی نرسریاں تو نہیں ہیں لیکن ان کے ذریعے شدت پسندی ضرور بڑھ رہی ہے جو آخر کار دہشت گردی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ لہٰذا مدارس میں کیا پڑھایا جا رہا ہے، طلبہ کے ذہنوں کی آبیاری کس طرح سے کی جا رہی ہے، ان سوالات پر غور کرنا ازحد ضروری ہے۔ ایک اور فوری اقدام جو دائمی پالیسی کے تناظر میں اختیار کرنا چاہئے وہ یہ ہے کہ پورے ملک میں مساجد مسلک کی قید سے آزاد ہوں ۔

سارے ملک کی مساجد بتدریج حکومتی تحویل میں لی جائیں ،امام مسجد اور موذن کو حکومت تنخواہ دے اور عربی خطبہ کے علاوہ جو تقریر کی جائے وہ محکمہ اوقاف سے منظور ہو نی چاہئے۔پوری دنیا میں یہی ضابطہ اور اصول ہے۔حتیٰ کہ ہمارے اسلامی روحانی مرکز خلیجی ممالک میں بھی کسی کو یہ آزادی حاصل نہیں کہ ممبر پر کھڑا ہو کر اشتعال انگیز باتیں کرے۔ لیکن یہ سب حکمت و دانائی سے ہونا چاہئے۔اگر آپ مسجدوں کے بارے میں یہ رویہ اختیار کریں گے کہ جلا دو ،گرا دو،مٹا دو تو پھر اس انتہا پسندی کی کوکھ سے ایک اور طرز کی انتہا پسندی جنم لے گی۔ اسی طرح طالبان کے ہمدردوں اورسہولت کاروں کے گرد ضرورگھیرا تنگ کریں اور انہیں اپنی رائے تبدیل کرنے پر مجبور کریں لیکن من گھڑت پروپیگنڈے کے ذریعے معتدل سوچ رکھنے والوں کو طالبان کا حامی قرار دیکر صف دشمناں میں دھکیلنے کی کوشش نہ کریں۔

جماعت اسلامی یا تحریک انصاف کے موقف سے اختلاف کی گنجائش موجود ہے لیکن یہ الزام درست نہیں کہ محولہ بالا جماعتیں طالبان کی حامی ہیں۔اگر وہ لوگ مذاکرات کے ذریعے معاملات کو سدھارنا چاہتے تھے تو اس میں کیا برائی تھی؟لیکن اب ان پربھی یہ بات آشکار ہو چکی ہے کہ دہشت گردی پھیلانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔بالخصوص جماعت اسلامی کے حوالے سے بہت منفی پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے حالانکہ سخت گیر موقف کے حامل منور حسن نے بھی شدید ترین الفاظ میں کسی اگر مگر اور چونکہ چنانچہ کے بغیر اس واقعہ کی مذمت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ یہ قتال فی سبیل اللہ نہیں قتال فی سبیل الشیطان ہے۔

جس طرح ان دنوں پورا ملک موسمیاتی دھند کا شکار ہے، اس طرح ہمارے دل و دماغ پر بھی دھند کے سائے ہیں۔ یہ دھند بھی کیا ظالم شے ہے کہ بھلا چنگا انسان بھی بصارت کے باوجود کچھ نہیں دیکھ پاتا اور حد نگاہ صفر ہو جاتی ہے۔ نہ آگے کی کچھ خبر ہوتی ہے نہ پیچھے کا راستہ معلوم ہوتا ہے۔ جب دھند چھٹتی ہے تب معلوم ہوتا ہے کہ کہاں سے بھٹک کر کس طرف آنکلے۔ یا پھر دھند میں ٹامک ٹوئیاں مارتے لوگوں کو تب ہوش آتا ہے جب کوئی بڑا حادثہ پیش آتا ہے۔حادثے تو کئی پیش آچکے۔

سانحہ پشاور سے قبل کئی دلدوز و دلخراش اور المناک حملے ہوئے۔بڈہ بیر کے علاقے میں نماز جنازہ پڑھنے والوں کو نشانہ بنایا گیا،پریڈ لین مسجد پر خود کش حملہ ہوا۔دیر بالا میں حیاء گئی کی مسجد میں خون کی ہولی کھیلی گئی،خیبر ایجنسی میں جمعہ کی نماز کے دوران خود کش حملہ آور نے اندر گھس کر دھماکہ کیا جس سے نہ صرف 60نمازی شہید ہوئے بلکہ مسجد بھی زمین بوس ہو گئی۔اس کے بعد لاہور کی مون مارکیٹ اور پشاور کے مینابازار میں ہونے والے دھماکوں نے قیامت برپا کی،دہشت گرد جی ایچ کیو تک جاپہنچے،نیول ایئربیس پر حملہ ہوا،میریٹ ہوٹل اسلام آباد کے خود کش دھماکے نے دل و دماغ پر دستک دی،بینظیر بھٹو کے قتل نے فوگ لائٹس آن کر کے قلب ونظر پر چھائی دھند کا اثر کم کرنے کی کوشش کی لیکن یہ سب کاوشیں وقتی اور عارضی ثابت ہوئیں اور ہمارے دل و دماغ پر چھائی دھند نہ چھٹ سکی۔خدا کرے کہ پشاور کے پھول صفت بچوں کی قربانیاں رائیگاں نہ جائیں اور اس سے قبل کہ پھر کوئی حادثہ ہو، ہمارے دل و دماغ پر چھائی دھند ختم ہوجائے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.