.

کہاں قاتل بدلتے ہیں فقط چہرے بدلتے ہیں

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آصف علی زرداری نے رضا ربانی کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور مجھے بتایا کہ آپ کے دوست چیئرمین سینیٹ کا حلف اٹھانے کے فوراً بعد قائم مقام صدر پاکستان بن جائیں گے کیونکہ ممنون حسین غیر ملکی دورے پر ہیں۔ زرداری صاحب کئی دنوں کی کوششوں کے بعد رضا ربانی کیلئے چیئرمین سینیٹ کا عہدہ حاصل کرنے پر خوش نظر آ رہے تھے لیکن مجھے اس خوشی کے پیچھے انجانے تفکرات کے سائے لہراتے دکھائی دے رہے تھے ۔ کچھ ہی دیر پہلے زرداری صاحب نے وزیر اعظم نواز شریف اور دیگر سیاسی قائدین کو اپنی رہائش گاہ سے رخصت کیا تھا۔ زرداری ہائوس میں دیا گیا یہ عشائیہ ملکی سیاست میں ایک نئے اتفاق رائے کا مظہر تھا۔ تحریک انصاف یہاں موجود نہ تھی لیکن عمران خان نے بھی رضا ربانی کو چیئرمین سینیٹ نامزد کرنے پر ’’کلیئر ‘‘کر دیا تھا۔

میرا خیال تھا کہ وزیراعظم نواز شریف کی زرداری ہائوس آمد کے بعد مسلم لیگ (ن)اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے درمیان پیدا ہونے والی کئی غلط فہمیاں دور ہو چکی ہونگی ۔ نواز شریف اور آصف علی زرداری کی ملاقات نے ان غلط فہمیوں کو کچھ کم تو کیا لیکن یہ ختم نہیں ہو سکیں اس عشائیے کے بعد رات گئے آصف علی زرداری سے جو باتیں ہوئیں ان میں انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف کے بارے میں کوئی منفی بات نہیں کی البتہ وزیر اعظم کے کچھ ساتھیوں کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ زرداری صاحب کہہ رہے تھے کہ نواز شریف کو پتہ ہونا چاہئے کہ میرے خلاف سازش دراصل ان کے خلاف سازش ہے لیکن لگتا ہے کہ آج کل آپ کی سازشوں پر زیادہ نظر نہیں اور اگر ہے بھی تو آپ انہیں خبردار نہیں کر رہے ۔میں نے جواب میں کہا کہ پچھلے دنوں مجھے وزیر اعظم صاحب سے تفصیلی گفتگو کا موقع ملا اور اس گفتگو میں سازشوں پر گفتگو بھی ہوئی لیکن مجھے وزیر اعظم صاحب خود کسی سازش میں شریک نظر نہیں آتے اس لئے وہ اکثر سازشوں سے بے خبر تھے ۔ویسے بھی کچھ عرصہ سے میں سیاسی سازشوں پر بولنے اور لکھنے سے گریز کرتا ہوں کیونکہ سازش کو بے نقاب کرنے والا بھی کسی نہ کسی سازش کا حصہ بن جاتا ہے۔

بہرحال آصف زرداری اپنی پارٹی کیلئے چیئرمین سینیٹ کا عہدہ حاصل کرنے اور وزیر اعظم نواز شریف سے مبارک باد وصول کرنے کے بعد بھی انتہائی محتاط اور ہوشیار تھے ۔ انہیں یقین تھا کہ رضا ربانی کے نام پر جو اتفاق رائے ہوا ہے اس اتفاق رائے پر کہیں نہ کہیں سے کوئی حملہ ضرور ہو گا ۔میں زرداری صاحب سے ملاقات کرکے باہر آیا تو ایک سنیٹر صاحب نے سرگوشی کے انداز میں پوچھا کہ آج کل ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے لاہور میں بڑے رابطے ہیں یہ کیا چکر ہے ؟اس سوال کے پیچھے سازشوں کا ایک نیا طوفان سائیں سائیں کر رہا تھا لہٰذا میں گھبرا کر وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا میں واپسی پر سوچ رہا تھا کہ رضا ربانی کے نام پر پیدا ہونے والا اتفاق رائے کون توڑ سکتا ہے اور کیسے توڑ سکتا ہے ؟ میں اپنے آپ سے پوچھ رہا تھا کہ آصف علی زرداری بار بار گورنر راج کے بارے میں مجھے کیوں پوچھ رہے تھے ؟ گورنر راج سے کراچی میں امن قائم ہو جائے گا یا پورا سندھ بدامنی کی لپیٹ میں آئے گا؟

آصف علی زرداری کی رہائش گاہ پر ایک بڑے سیاسی اتفاق رائے کی پذیرائی کرنے والے ابھی خاموش نہ ہوتے تھے کہ اس اتفاق رائے میں شامل متحدہ قومی موومنٹ کے مرکزی دفتر نائن زیرو کراچی پر رینجرز نے چھاپہ مار دیا ۔ چھاپے کا مقصد نائن زیرو سے ناجائز اسلحے کی برآمدگی اور کچھ اشتہاری ملزمان کی گرفتاری بتایا گیا۔ مقصد کچھ بھی ہو لیکن اس چھاپے کی ٹائمنگ نے اہم سیاسی سوالات کو جنم دیا ہے اور اس چھاپے کو ہم سیاست سے علیحدہ نہیں کر سکتے ۔ چھاپہ تو ایم کیو ایم کے مرکز پر مارا گیا لیکن سوالات کے جواب آصف علی زرداری اور وزیر اعظم نواز شریف سے مانگے جائیں گے۔ کیا وجہ ہے کہ یہ چھاپہ ایم کیو ایم کی طرف سے رضا ربانی کی حمایت کے اعلان کے فوراً بعد اور چیئرمین سینیٹ کے انتخاب سے ایک دن قبل مارا گیا؟

جب وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف لندن فون کرکے الطاف حسین سے چیئرمین سینیٹ کیلئے حمایت مانگ رہے تھے اور جب کچھ وفاقی وزراء ایم کیو ایم کو حکومت میں شمولیت کی دعوت دے رہے تھے اس وقت یہ چھاپہ کیوں نہ مارا گیا ؟اگر ایم کیو ایم کی طرف سے پیپلز پارٹی کی بجائے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ تعاون کیا جاتا تو کیا یہ چھاپہ نہیں مارا جاتا ؟ یہ سوالات اس لئے جنم لے رہے ہیں کیونکہ رینجرز وفاقی حکومت کے ماتحت ہے ۔ اب وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کچھ بھی کہیں لیکن وہ اس چھاپے سے بے خبر تھے اور اسلام آباد میں آصف علی زرداری سے لیکر خورشید شاہ تک کسی کو بدھ کی صبح تک اس چھاپے کے بارے میں کوئی اشارہ تک نہیں تھا ۔ کیا وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان بھی یہی کہیں گے کہ انہیں نائن زیرو پر چھاپے کا پیشگی علم نہیں تھا ؟یہ کیسے ممکن ہے کہ ملک کی ایک اہم سیاسی جماعت کے دفتر پر وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو بتائے بغیر چھاپہ مار دیا جائے؟

نائن زیرو سے ناجائز اسلحہ برآمد کرنے اور کچھ مطلوب ملزمان کی گرفتاری کا دعویٰ کیا گیا ہے لیکن اس چھاپے کی ٹائمنگ کا تعلق چیئرمین سینیٹ کے انتخاب سے نظر آتا ہے۔ بظاہر وزیر اعظم نواز شریف نے رضا ربانی کی حمایت کرکے اپنے لئے بہت سی داد سمیٹی لیکن نائن زیرو پر چھاپے کے بعد ناقدین کو یہ کہنے کا موقع ملا ہے کہ نواز شریف کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ اور ہیں ۔ دوسرا موقف یہ ہے کہ سزائے موت پانے والے کچھ ملزمان سمیت ولی خان بابر قتل کیس کا مرکزی ملزم فیصل موٹا جہاں بھی چھپا بیٹھا ہو انہیں گرفتار کرنے کیلئے کوئی بھی وقت مناسب ہے ۔رینجرز کی طرف سے چھاپے کے حق میں بہت سے دلائل دیئے جا سکتے ہیں لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس چھاپے نے منگل کی رات اسلام آباد میں سامنے آنے والے سیاسی اتفاق رائے کو بڑا دھچکا پہنچایا اور اس اتفاق رائے میں بھی دراڑیں ڈالی ہیں جو 16دسمبر کو پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد پیدا ہوا تھا ۔ چھاپہ ایم کیو ایم پر مارا گیا لیکن نشانہ پیپلز پارٹی بنی نظر آتی ہے اور اس لئے پیپلز پارٹی کے رہنمائوں نے اس چھاپے کی مذمت کر دی ہے ۔پیپلز پارٹی والوں کو سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ وزیر اعظم نواز شریف کے بارے میں کیا کہیں۔ جالب نے کہا تھا

کہیں آہ بن کے لب پر ترا نام آ نہ جائے
تجھے بے وفا کہوں میں وہ مقام آ نہ جائے

یہ خاکسار ذاتی طور پر ولی خان بابر کیس کے ایک مرکزی ملزم کی گرفتاری پر بہت مطمئن ہے۔میں اس دن کا انتظار کر رہا ہوں جب پچھلے سال جون میں ماڈل ٹائون لاہور میں پولیس کے ہاتھوں مرنے والوں کے ذمہ دار بھی گرفتار ہوں گے۔

مجھے اس دن کا انتظار ہے جب پاکستان کے حق میں ووٹ دینے والے اور قائد اعظم ؒ کو تحریک پاکستان کیلئے چندہ دینے والے اکبر بگٹی کے قاتلوں کو بھی گرفتار کیا جائے گا اور عدالتوں سے سزائیں دلوائی جائیں گی۔ مجھے اس وقت کا انتظار ہے جب قاتلوں کو مخصوص حالات میں مخصوص مقاصد کے حصول کیلئے گرفتار نہیں کیا جائے گا بلکہ صرف اور صرف مظلوموں کو انصاف دلانے کیلئے گرفتار کیا جائے گا۔ نائن زیرو پر چھاپے کے بعد سندھ میں گورنر راج لگانے کی کوشش سے حالات بہتر نہیں مزید بگڑنے کا خطرہ ہے ۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کو کمزور کرنے سے نواز شریف کو نہیں جمہوریت کے دشمنوں کو فائدہ ہوگا۔ جمہوریت آگے نہیں پیچھے جائے گی۔بقول جالب

کہاں قاتل بدلتے ہیں فقط چہرے بدلتے ہیں
عجب اپنا سفر ہے، فاصلے بھی ساتھ چلتے ہیں

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.