عالمی سفارتی عمل میں سعودی عرب کیسے مؤثر ہوا!

فیصل فائق
فیصل فائق
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

دنیا نے دیکھا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف ریاض کے تاریخی درعیہ محل میں ہاتھ ملا رہے ہیں۔ لیکن یہ صرف دو وزرائے خارجہ کا مصافحہ نہیں تھا۔

یہ ایک نئے وقت اور دور کی نشاندہی تھی، اطلاع بھی تھی اور گواہی بھی۔ کہ سعودی عرب کی حیثیت اب محض ایک علاقائی سطح تک نہیں رہی بلکہ اس کی حیثیت اب عالمی فیصلہ سازی کے لیے ایک اہم دارالحکومت کی ہو گئی ہے۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے زیر قیادت 'ریاض میٹنگ' میں امریکہ اور روس کئی برسوں کے بعد حیران کن طور پر ایک میز پر آ گئے۔ اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ اب مملکت عالمی امور میں محض ایک مبصر کے طور پر موجود نہیں بلکہ عالمی امن کے ایک تخلیق کار کے طور پر موجود ہے۔

ہم دیکھ رہے ہیں دنیا آج ایسے سیاسی اور جغرافیائی قسم کے چیلنجوں سے دوچار ہے جو ماضی میں نہیں تھے۔ اس لیے ان نئے حالات اور ان کے ساتھ ابھرنے والے مسائل میں سعودی عرب کا نہ سفر بڑھ گیا ہے بلکہ ایک بڑے سنگ میل کی صورت سامنے ہے۔ اس سے مستقبل کی دنیا کی سمت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔ یہ تبدیل ہوتی دنیا کا پتہ مل رہا ہے۔

اس لیے ریاض میں کئی برسوں بعد امریکی و روسی وزرائے خارجہ کا مصافحہ بدلتے ہوئے 'ورلڈ آرڈر' کی علامت بھی ہے۔ ایسا 'ورلڈ آرڈر' جس میں سعودی عرب علاقائی ہی نہیں عالمی فیصلہ سازی میں اہم فریق اور طاقت کے طور پر نظر آئے گا۔

امن کاپلیٹ فارم

تنازعات سے بھری ہوئی اس دنیا کو بلا شبہ ایک ایسی قوم کی ضرورت ہے جو بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان پل بن سکے، ان کے درمیان بطور ثالث کردار ادا کر سکے۔ سعودی عرب نے ذمہ داری سنبھال لی ہے۔ مملکت امن کے ایک معمار کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ اسی لیے امریکہ اور روس کی اہم میٹنگ کا بہترین مقام سمجھی گئی۔

جی ہاں ۔۔ انتہائی پیچیدہ عالمی امور کے لیے بھی ایک اہم جائے قرار اور قیام امن کے لیے ایک غیر جانبدار جگہ۔ ایسی جگہ جو انتہائی پیچیدہ عالمی مسئلوں کو بھی حل کی راہ پر لانے کی جگہ اور امید کی سرزمین بنی ہے۔ جہاں سے عالمی مسائل اپنے لیے حل کا راستہ تلاش کر سکتے ہیں۔

کریملن کی طرف سے یہ اعلان کہ روس اور امریکہ ریاض میں اس امر پر متفق ہو گئے ہیں کہ دونوں یوکرین کے تنازعے کے لیے بنیادی سمتوں کو واضح کریں گے۔ یقیناً سعودی عرب کے لیے یہ بڑی اہم بات ہے کہ یہ عالمی امن اور استحکام میں مؤثر ہے اور اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ یہ جو اس سے پہلے نہیں تھا مگر اب سعودی عرب دنیا میں ایک اہم مرکز کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ وہ سرزمین بن رہی ہے جس پر دینا کے تنازعات کا حل تلاشا جاتا ہے۔ سفارتی کوششوں سے کشیدگی کو کم کیا جاتا ہے۔ جس سرزمین کے ہوتے ہوئے جنگوں کو روکا جا سکتا ہے۔ کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہیں اور سعودی عرب ایک ثالث کے طور پر عالمی بے چینی و اضطراب میں محض علامتی طور پر نہیں عملی طور پر کمی کا ذریعہ بن رہا ہے۔

سعودی عرب دنیا کوسفارت کاری کے ایک نئے دور کی صورت گری کر کے دے رہا ہے۔ سعودی عرب سفارتی میدان سے نئے 'ورلڈ آرڈر' کے مضبوط اشارے دے رہا ہے۔ مغربی ممالک کے زیر قیادت روایتی مذاکرات ایک نئی کثیر طاقتی دنیا کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

مملکت نے اپنی اس اہلیت کا اظہار کیا ہے کہ وہ دو مخالف قوتوں کو ایک ساتھ بٹھانے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ نہ صرف یہ کہ اس مقصد کے لیے ایک غیر جانبدارانہ پلیٹ فارم مہیا کیا ہے بلکہ عملیت پسندی پر مبنی اور نتائج پیدا کرنے والی سفارتکاری کا بھی مظاہرہ کیا ہے۔ معاشی و توانائی کے شعبوں میں سعودی اثر و رسوخ اس کے عالمی سطح پر اثر و رسوخ میں تبدیل ہو رہا ہے۔ جو بہت دور کے سفارتی اقدام کا بھی باعث بن رہا ہے۔

سعودی مملکت دنیا کی تیل کی صنعت میں غالب قوت ہے۔ جبکہ تیل پیدا کرنے والے ملکوں کی تنظیم 'اوپیک' میں بھی اس کا کردار قائدانہ ہے۔ اس ناطے سعودی عرب کا کردار دنیا میں معاشی رجحانات اور ترقی کی تشکیل میں بھی غیر معمولی ہے۔ سعودی عرب کا تیل کی پیداوار سے متعلق کوئی بھی فیصلہ عالمی منڈی میں اثرات کے اعتبار سے قریب سے دیکھا جاتا ہے۔

'اوپیک' اور توانائی کی مارکیٹ

سعودی معیشت کے قلب میں اس کے 'اوپیک' کے لیے قائدانہ کردار کی بڑی اہمیت ہے۔ جیسا کہ سعودی عرب دنیا میں سب سے بڑا خام تیل برآمد کرنے والا ملک ہے۔ اس ناطے اسے کچھ چیلنجوں کا بھی سامنا ہے۔ تاکہ معاشی توازن اور سیاسی جغرافیائی مفادات کے دباؤ کو بھی دیکھ سکے۔

امریکہ نے کئی بار سعودی عرب سے درخواست کی ہے کہ وہ 'اوپیک' کے پلیٹ فارم سے تیل کی پیداوار کو بڑھائے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی لائے۔ تاہم سعودی عرب کو اس امریکی مطالبے کے ساتھ ساتھ اپنی معاشی ضرورتوں کو بھی دیکھنا ہوتا ہے۔ توانائی سے متعلق سفارتی کوششوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ نیز سعودی عرب اپنے دوسرے تیل پیدا کرنے والی اقوام کے ساتھ تعلقات و اتحاد کو بھی اہمیت دیتا ہے۔

حالیہ رپورٹس اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ 'اوپیک' اپنی طے شدہ پیداوار کے شیڈول کو مؤخر کر دے ۔ تاکہ عالمی سطح پر پائے جانے والی معاشی بےچیقینی میں کردار ادا کر سکے۔

اس اپروچ کے تحت عارضی طور پر تیل کی قیمتوں میں 75 ڈالر فی بیرل اضافہ ہو سکتا ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب کے پاس یہ صلاحیت ہے کہ وہ عالمی منڈی پر اثر انداز ہو سکتا ہے اور اپنے معاشی مفادات پر بھی تحفظ کر سکتا ہے۔

سعودی عرب توانائی کے کھلاڑیوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے بڑے باریک اور نازک معاملے کو سمجھداری کے ساتھ لے کر چلتا ہے۔ ان میں روس اور سعودی عرب کے درمیان تیل کے شعبے میں 'اوپیک' کے پلیٹ فارم سے تعاون و معاہدات کو ایک مثال کے طور پر یپش کیا جا سکتا ہے۔ یہ سعودی عرب کی عملیت پسندانہ صلاحیت کا واضح اظہار ہے۔ جو دنیا میں تیل کی رسد و طلب کو بھی برقرار رکھتا ہے اور معاشی استحکام کو بھی نظر انداز نہیں ہونے دیتا۔

معاشی تنوع اور طویل مدتی حکمت عملی

تیل جو سعودی عرب کا بنیادی معاشی محرک ہے۔ مملکت سرگرمی کے ساتھ اپنی معاشی تنوع کی پالسیی کو ویژن 2030 کی طرف لے جا رہی ہے۔ ویژن 2030 مملکت کا ایک پرجوش اور پرعزم ویژن ہے جو اس کے ہائیڈروکاربنز پر انحصار کو کم کر رہا ہے۔ قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ سیاحت و ٹیکنالوجی کو معیشت کے بڑے ستونوں کی شکل دی جا رہی ہے۔ جو ریاض کے دور اندیشی پر مبنی فیصلوں کی غمازی ہے۔

تاہم سعودی عرب نے اس امر کو بھی جاری رکھا ہے کہ وہ عالمی سطح پر تیل کی منڈی میں ایک مؤثر فریق کے طور پر اپنے آپ کو برقرار رکھے اور بین الاقوامی معاشی و سفارتی کوششوں میں ایک مرکزی اہمیت کا حامل رہے۔

سعودی عرب کا معاشی توانائی کا اثر بڑے گہرے انداز میں ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ جو اس کی عالمی سطح پر اہمیت کو بڑھاتا ہے۔ جیسا کہ 'اوپیک کا حقیقی لیڈر ہے۔ اس ناطے مملکت کے فیصلوں کے دور رس اثرات ہیں۔ جو ریاض کی معاشی اعتبار سے حکمت عملی کو نمایاں کرتے ہیں۔ یہ امور خواہ عالمی اقتصادی اعتبار سے مملکت کی مضبوطی سے متعلق ہوں یا توناائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تعلقات کے مستقبل کو یکساں شکل دینے والے ہوں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size