نیتن یاہو اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد سے بے نیازی کیوں دکھانے لگے
امریکہ اسرائیل کو 1960 کی دہائی کے شروع سے ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔ لیکن جب 1970 کی دہائی میں یوم کپور کی شہرت پانے والی 1973 کی جنگ ہوئی تو اس کے بعد ایک جانب اسرائیل اور مصر کے درمیان کیمپ ڈیوڈ کا مشہور زمانہ امن معاہدہ ہوا۔ مگر اس کے باوجود اسرائیل امریکی ہتھیاروں اور فوجی امداد وصول کرنے والا سب سے اہم ملک بن گیا۔
اس وقت سے امریکہ نے اسرائیل کے تناظر میں اپنی سوچ کو دو رخا رکھا۔ اس دو رخ رکھنے کی امریکی پالیسی کی وجہ یہ نہیں کہ امریکہ چاہتا تھا کہ وہ اپنے دیرینہ ساتھی اور سرد جنگ کے اتحادی اسرائیل کے وجود کو خطرے میں نہ پڑنے دے۔ خصوصاً ان عرب ملکوں پر اسرائیل فوجی ٹیکنالوجی میں بھی برتر رہے جن میں سوویت یونین کے حمایت یافتہ بعض عرب ممالک بھی شامل تھے۔ اسرائیل کے ساتھ ساتھ مصر کے لیے بھی امریکی فوجی اسلحے کے دروازے کھل گئے۔ ظاہر ہے کہ امریکہ باہم امن معاہدے میں منسلک ہونے والے والے دونوں دشمن ملکوں میں سے مصر کو امن معاہدے کا بدلہ بھی دینا تھا۔
تب سے ہر دس سال بعد امریکی کانگریس اسرائیل کے لیے فوجی امداد کی مقدار اور مالیت میں اضافہ کرتی رہی۔ 2016 میں امریکہ کی اوباما انتظامیہ نے اسرائیل کے لیے فوجی امدادی پیکج کو بڑھایا۔ آج کل اسی فوجی امدادی پیکج کو جاری رکھا گیا ہے۔ اس فوجی امدادی پیکج کی مالیت 3.8 ارب ڈالر سالانہ ہے۔ اسی سال اس پیکج میں ایک بار پھر اضافے کا امکان ہے کہ 2016 کے دس سال پہلے ہونے والے اضافے کے بعد اب نئے حالات میں نئے اضافے کی ضرورت ہوگی۔
اس لیے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے اس دعوے نے بہت سوں کو حیران کر دیا ہے۔ نیتن یاہو کا یہ موقف 'سی بی ایس' کو دس مئی کو دیے گئے طویل انٹرویو میں سامنے آیا ہے۔ کہ وہ اب اس امریکی فوجی امداد کو مرحلہ وار طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نسبتاً کھے لفظوں میں کہا اسرائیل اب اس دور میں ہے جب وہ امریکہ سے امداد لینے کی بجائے اس کا شراکت دار بننا چاہے گا۔
یہ شراکت داری فوجی اور معاشی دونوں شعبوں میں ہونی چاہیے۔ نیتن یاہو نے اپنی 'ہائیٹیک' صلاحیت کو فخریہ بیان کیا اور کہا اب اسرائیل اس پوزیشن میں ہے کہ اسلحہ خود اپنے داموں سے خرید سکتا ہے۔ ہم نے اپنی یہ ٹیکنالوجی پہلے امریکہ کے ساتھ شیئر کی ہے اور اب ہم اپنے عرب دوستوں کے ساتھ بھی شیئر کرنے والے ہیں۔
اسرائیل کے لیے 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد میں سے 500 ملین ڈالر کی مدد دفاعی میزائلوں کی صورت اسرئیل کو جا چکی ہے۔ ان دفاعی میزائلوں میں ڈیوڈز سلنگ اور ایرو سسٹمز بھی شامل ہیں جو درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کو روکنے کے لیے مشترکہ پروگرام کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ نیتن یاہو چاہتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ اب اسی نوعیت کے جوائنٹ وینچرز کیے جائیں اور براہ راست امداد لینے کی بجائے اس کی جگہ دو طرفہ تعاون کو بہتر بنایا جائے۔
یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ امریکی فوجی امداد اسرائیل کے لیے امریکہ کے فارن ملٹری فنڈنگ پروگرام کے تحت اسرائیل کو دی جاتی ہے۔ جس کے تحت ہتھیار امریکی کمپنیوں سے ان فنڈز کی بنیاد پر ہی خریدنا لازمی ہے۔ یعنی اسرائیل کو اس امریکی فوجی امداد کی بنیاد پر کسی دوسرے ملک سے اسلحہ خریدنے کی اجازت نہیں ہے۔
اسرائیل کا اس وجہ سے اب یہ کہنا ہے کہ اس سے فائدے میں بالآخر امریکہ خود ہی رہتا ہے نہ کہ اسرائیل جو اپنی ہتھیار بنانے والی کمپنیوں کو سپورٹ کرتا ہے اور خود اسرائیلی ہتھیار ساز کمپنیاں اس سے متاثر ہوتی ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے 'سی بی ایس' کو دیے گئے اس طویل انٹرویو میں اگرچہ اس اسرائیلی مخمصے کا کھلے لفظوں میں ذکر نہیں کیا۔ مگر امریکی امداد سے متعلق نیتن یاہو کے تازہ خیالات کے پیچھے یہی کہانی ہے کہ اسرائیلی حکومتیں یہ سمجھتی ہیں کہ ان کی اپنی اسلحہ بنانے والی کمپنیاں اس امریکی شرط کی وجہ سے نقصان میں رہ رہی ہیں۔
پچھلے ماہ 'فارن افیئرز' میں ایک نمایاں اسرائیلی دفاعی تجزیہ کار نے لکھا کہ یہ اسرائیلی کمپنیوں کے لیے نقصان دہ ہے کہ اسرائیلی حکومت امریکہ سے دفاعی کوپن کے انداز میں امداد لے اور ان کوپنز کو بعدازاں امریکہ میں ہی خرچ کرنا لازم ہو۔ مضمون نگار نے یہ بھی ذکر کیا کہ یہ اسرائیل کی اپنی شناخت کے بھی خلاف ہے کہ اسرائیل ہتھیار سازی میں کیا مقام رکھتا ہے۔
نیز اس سے یہ بات بھی سامنے نہیں آتی کہ ایک سٹارٹ اپ نیشن کی شناخت سے آگے بڑھ کر اسرائیل اب علاقے کی سپر طاقت بن گیا ہے۔ خلیج کی دیگر تمام ریاستیں اپنے وسائل اور اپنے بجٹ سے امریکہ کو اسلحے کے لیے ادائیگی کرتی ہیں۔ اس مضمون نگار نے اس نکتے کو بھی نمایاں کیا کہ امریکہ سے اسرائیل کو ان شرائط کے ساتھ ملنے والی فوجی امداد کے نتیجے میں اسرائیل کی امریکہ میں اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے اور امریکی سیاست میں اسرائیلی حیثیت متاثر ہو رہی ہے۔ یہ پہلو بھی نیتن یاہو کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔
امریکہ میں اسرائیل کے لیے حمایت میں تیزی سے کمی آرہی ہے۔ خاص طور پر نوجوانوں میں اسرائیل کافی بدنامی پا رہا ہے۔ حتیٰ کہ غزہ میں جنگ بندی کے بعد بھی جس طرح اسرائیل نے غزہ کو تباہ حال ہونے کے باوجود نشانے پر رکھا ہوا ہے، یہ امریکی رائے عامہ کو اسرائیل کے خلاف کر رہا ہے۔ ماہ مارچ میں 'پیئو ریسرچ سنٹر' نے ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے 60 فیصد امریکی عوام اسرائیل کے لیے حمایت پر مبنی جذبات اور خیالات نہیں رکھتے۔ پچھلے سال اسرائیل کے لیے ناپسندیدگی کی یہ شرح 53 فیصد تھی۔ اسرائیل کو ناپسند کرنے والے ان امریکیوں کی عمر 50 سال سے کم ہے۔ ان کا تعلق خواہ ڈیموکریٹس سے ہو خواہ ریپیبلیکن سے، اسرائیل کے موجودہ وزیراعظم نیتن یاہو کو مثبت نہیں سمجھتے۔ Quinnipiac یونیورسٹی کے ایک حالیہ سروے میں یہی کہا گیا ہے کہ امریکی ووٹرز کی 60 فیصد تعداد اسرائیلی فوج کے آپریشنز کی وجہ سے اسرائیل کو ناپسند کرتی ہے۔ 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے لے کر امریکہ میں اسرائیل کی حمایت میں مسلسل کمی آئی ہے۔
یہ رجحان امریکی سیاستدانوں میں بھی نمایاں ہے۔ خصوصاً ڈیموکریٹس میں اسرائیل کے لیے ناپسندیدگی بڑھ رہی ہے۔ ویٹرن سینیٹر بیرنی سینڈز نے پچھلے ماہ کوشش کی کہ امریکی سینیٹ اسرائیل کو بھاری نوعیت کے بموں کی ترسیل روک دے۔ نیز اسرائیل کو امریکی بلڈوزرز اور بھاری بموں کی فروخت بھی روکی جائے کیونکہ نیتن یاہو کی حکومت کے لیے فوجی مدد روکنا بہت پہلے لازم ہو گیا تھا۔ زیادہ ووٹ اس قرارداد کے خلاف پڑے مگر ڈیموکریٹس کی غالب اکثریت اس قرارداد کے حق میں تھی۔ جو اس بات کی علامت ہے کہ اسرائیل کے لیے امریکی فوجی مدد کے بارے میں ڈیموکریٹس سینیٹرز کی اکثریت کیا رائے رکھتی ہے۔ کئی دوسرے ڈیموکریٹس بھی اسرائیل کو امریکی اسلحہ دینے کے خلاف مطالبہ کرتے ہیں۔ راحم ایمانوئیل سابق صدر اوباما کے معاون اور شکاگو کے مئیر ہیں۔ ممکن ہے وہ 2028 میں امریکہ کے صدارتی امیدوار بھی بنیں۔ انہوں نے پچھلے ماہ کہا تھا کہ امریکی شہریوں کے ٹیکسوں کی بنیاد پر اسرائیل کو فوجی اعانتی مدد دینے کے دن اب بیت چکے ہیں۔
نیتن یاہو سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ اسرائیل کا سب سے زیادہ اور کٹر حامی صدر ہے اور ٹرمپ کے بعد وہ خیال نہیں کرتے کہ اگلا صدر خواہ وہ عورت ہو یا مرد اسرائیل کا اس قدر قابل بھروسہ شراکت دار بن سکے گا۔ خصوصاً جب عوامی سطح پر اسرائیلی حمایت میں کمی ہو رہی ہوگی تو وائٹ ہاؤس میں آنے والے کسی بھی صدر سے اسرائیل کو اتنی حمایت نہیں مل سکے گی۔ اس لیے ان کی کوشش ہے کہ صدر ٹرمپ کی موجودگی میں اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد کو شرائط کی قدغنوں سے آزاد کراتے ہوئے شراکت داری میں تبدیل کر لیں کہ اس سے اسرائیل کا امریکہ میں اور امریکی ووٹرز میں امیج بہتر ہوگا۔
تاہم بعض لوگ یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسرائیل کو دی جانے والی اس فوجی مدد کے باعث کم از کم 20 ہزار امریکیوں کو دفاعی کمپنیوں میں روزگار ملا ہوا ہے۔ اس لیے مشکل ہے کہ صدر ٹرمپ فوری طور پر نیتن یاہو کے اس مطالبے کو پورا کرتے ہوئے فوجی مدد پروگرام کو تبدیل کر دیں۔ لیکن اب یہ معاملہ امریکی سیاستدانوں کے ذہنوں میں پختہ ہے کہ اسرائیل کے لیے فوجی امداد کو شراکت داری میں بدلنے کا یہ معاملہ اسرائیل کی امریکہ میں پوزیشن کو بحال کرنے اور اسرائیل کا امریکی دفاعی صنعت پر انحصار کم کر کے اسرائیلی دفاعی صنعت کو مضبوط کرنے کا باعث بنے گا۔