سعودی عرب کے قومی ترانے کے خالق ابراہیم خفاجی کون تھے؟

مرحوم ابراہیم کی کچھ یادیں ان کے فرزند کی زبانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اگر آپ مکہ معظمہ کی العتیبیہ کالونی میں چہل قدمی کر رہے ہیں تو کالونی میں داخل ہوتے ہی آپ کی نظریں 'ابراہیم خفاجی اسکول' پر پڑیں گی۔ سعودی عرب میں 'ابراہیم خفاجی' کو اجنبی نام نہیں بلکہ ملک کا بچہ بچہ اس نام سے واقف ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ابراہیم خفاجی کا تذکرہ ایک ایسے وقت میں چھیڑا ہے، جب مملکت 89 واں قومی دن منا رہی ہے۔ مرحوم خفاجی کا بھی سعودی قوم کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ وہ سعودی عرب کے قومی ترانے کے خالق ہیں۔ سنہ 1926ء میں پیدا ہونے والے ابراہیم خفاجی 2017ء کو اس دار فانی سے کوچ کرگئے تھے مگر وہ سعودی قوم کے دلوں میں ہمیشہ بستے رہیں گے۔

ان کی خدمات کے اعتراف میں گذشتہ برس دسمبر میں مکہ معظمہ کے محکمہ تعلیم نے 'ابراہیم خفاجی' پرائمری اسکول قائم کیا۔ اسکول کے قیام کی تقریب میں مرحوم کے عزیز واقارب اور دوستوں کی بڑی تعداد کو مدعو کیا گیا تھا۔

قومی ترانہ ملک وقوم کی زندہ علامت سمجھا جاتا ہے۔ سعودی عرب کا قومی ترانہ اور اس کے خالق بھی اہلیان وطن کے دلوں میں بستے رہیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے سعودی عرب کے قومی ترانے کے شاعر ابراہیم خفاجی کے فرزند سے ان کے والد کے بارے میں گفتگو کی۔ بیٹے محمد نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے کہا کہ اسکول کا نام ہمارے والد کی نسبت سے موسوم کرنا ہمارے لیے بڑے اعزاز اور فخر کی بات ہے۔ یہ اعزاز اس لیے بخشا گیا کہ ہمارے والد نے وطن کے لیے ایک ایسا کام کیا تھا جسے تا ابد یاد رکھا جائے گا۔ ہم بہت خوش ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہم ایسے ملک میں ہیں جس کی قیادت اپنے فرزندان وطن کی خدمات کا اعتراف کرتی اور انہیں ان کی خدمات پر ایوارڈ دیتی ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ میں اس وقت تعلیم کے سلسلے میں امریکا میں تھا جب ترانہ پہلی بار سرکاری ٹی وی چینل پر نشر کیا گیا۔ یہ ایک تاریخی لمحہ تھا کہ خدا نے ہمارے والد کو اس ایک ایسا اعزاز بخشا جس نے ملک کے فخر میں اضافہ کیا۔ اس کے صلے میں ریاست اور پوری قوم کی طرف سے ہمارے والد کو عزت کا تاج پہنایا گیا"۔

انہوں نے مزید کہا کہ میرے والد نے شاہ خالد کے مصر کے دورے کے بعد چھ مہینوں کے اندر قومی ترانہ لکھا "شاہ خالد کی وفات کے بعد شاہ فہد بن عبدالعزیز کی خواہش پر کوقومی ترانے کے خیال پر عمل درآمد شروع کرنے کی ہدایت کی گئی۔ بادشاہ سلامت یہ چاہتے تھے کہ قومی ترانہ بادشاہ وقت کے نام سے خالی ہو۔ اس میں دین اسلام، عادات اور روایات جو جگہ دی جائے۔ شاہ فہد نے ترانے کو مکمل کرنے کے عمل کی نگرانی کی۔ یہاں تک کہ قومی ترانہ تیار ہوگیا۔

محمد نے بتایا کیا کہ قومی ترانہ جمعہ کے روز عید الفطر کے پہلے دن 1404ھ بہ مطابق 29 جون 1984 کو ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر نشر کیا گیا۔ قومی ترانے کی نشریات کا لمحہ تاریخی اور عید کا دن تھا۔ ہم بہت خوش تھے۔

سعودی عرب کے قومی ترانے کے خالق ابراہیم خفاجی طویل علالت کے بعد 24 نومبر 2017ء کو 91 سال کی عمر میں چل بسے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں