غزہ میں جنگ بندی کے مطالبے سے انکار،برطانوی پارٹی کے رہنما کو اختلاف کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حماس-اسرائیل جنگ کے بارے میں برطانیہ میں حزبِ اختلاف کی لیبر پارٹی کے مرکزی رہنما کے مؤقف پر تنازع بدھ کو بڑھ گیا جب پارٹی کی اعلیٰ ٹیم میں سے ایک فرد نے استعفیٰ دے دیا۔

کیئر اسٹارمر جو اگلے سال متوقع انتخابات میں برطانیہ کے اگلے وزیرِ اعظم بننے کے لیے تیار نظر آتے ہیں، انہوں نے رائے شماری کے مطابق مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

اس کے بجائے انسانی حقوق کے سابق وکیل نے اسرائیلی بمباری کو انسانی بنیادوں پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ عام فلسطینیوں تک انتہائی ضروری امداد پہنچ سکے جو ساحلی انکلیو کو چھوڑنے سے قاصر ہیں۔

تاہم ان کے اس موقف نے پارٹی کے اندر بے چینی پیدا کردی ہے۔

اسٹارمر کو لکھے گئے خط میں کارکنان کے حقوق کے بارے میں پارٹی کے ترجمان عمران حسین نے کہا کہ وہ انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے لیے ایک مضبوط وکیل بننا چاہتے ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ خونریزی کے خاتمے، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ کافی امداد غزہ تک پہنچ سکے اور انتہائی ضرورت مندوں تک پہنچ سکے اور اسرائیلی یرغمالیوں کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنانے میں مدد کے لیے جنگ بندی ضروری ہے۔

حسین نے مزید کہا کہ وہ حماس کے 7 اکتوبر کے حملوں کی "صریحاً مذمت" کرتے ہیں اور پختگی سے اس بات پر متفق ہیں کہ "ہر ملک کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے"۔

لیکن انہوں نے کہا کہ یہ "عام شہریوں کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی قانون کی دانستہ خلاف ورزی یا جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے کا حق کبھی نہیں بن سکتا۔"

2020 میں بائیں بازو کے کٹر سابق رہنما جیریمی کوربن سے اقتدار سنبھالنے والے اسٹارمر کو غزہ تنازعہ پر اپنی اعلیٰ ٹیم میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ایک گہری ہوتی ہوئی جنگ درپیش ہے۔

ان کی شیڈو کابینہ میں سے کم از کم 16 نے یا تو جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے یا دوسروں کے مطالبات سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے ہیں۔

لیبر پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ جنگ بندی سے تنازعہ منجمد ہو جائے گا اور "یرغمالی غزہ میں ہی رہ جائیں گے اور جو ہم نے 7 اکتوبر کو دیکھا تھا، اس جیسا حملہ کرنے کا انفراسٹرکچر اور صلاحیت حماس کے پاس ہی رہے گی۔"

"بین الاقوامی قانون پر ہر وقت عمل ہو اور بے گناہ شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ لیبر پارٹی لڑائی میں انسانی بنیادوں پر تؤقف کا مطالبہ کر رہی ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں