اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز خان یونس کے علاقے سے فلسطینی شہریوں کو ایک بار پھر جبری انخلا کا حکم جاری کر دیا ہے۔ یہ نیا حکم جمعہ کے صبح سویرے اسرائیلی فوج کی خان یونس پر کی گئی بہیمانہ بمباری کے اگلے روز سامنے آیا ہے۔
جمعہ کے روز کی بمباری میں اسرائیلی فوج نے ایک ہی خاندان کے دس افراد کو قتل کیا تھا جن میں سات بچے شامل تھے۔ اب ہفتے کے روز خان یونس اور اس کے گردو پیش کے علاقوں سے فلسطینی آبادی صاف کرنے کے لیے کہا گیا ہے کہ اس علاقے کو چھوڑ جائیں۔
اسرائیلی فوج کے بڑی تعداد میں فوجی اس علاقے میں جنگی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ جمعہ کے روز کی اسرائیلی بمباری کے بعد ہفتے کے روز فلسطینی مزاحمت کاروں نے بھی جوابی راکٹ فائر کیے ہیں۔ تاہم اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ان راکٹوں کو روک دیا ہے اور اسرائیلی علاقے میں کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔
اسرائیلی فوج نے جبری انخلا کے حکم میں کہا ہے کہ فلسطینیوں کو یہ حکم ان کے تحفظ کی خاطر دیا رہا ہے۔ اس لیے لوگ فوری طور پر اپنے گھر بار چھوڑ کر المواصی کے علاقے میں قائم کیمپوں میں منتقل ہو جائیں۔
ہفتے کے ہی روز اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز نے پورے غزہ میں جنگی جارحیت کو وسعت دینے کے ایک نئے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر دفاع کے مطابق یہ جنگی کارروائی میں زیادہ شدت لانے کا فوری منصوبہ ہے۔
کاٹز نے ان خیالات کا اظہار غزہ کے رہنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کیا ہے۔ اسرائیل نے غزہ کو آنے والی راہداریوں کا کنٹرول مزید پختہ کرنے لکا اعلان پہلے سے ہی کر رکھا ہے۔
-
حماس کا وفد غزہ میں جنگ بندی پر بات چیت کے لیے قاہرہ روانہ
غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی بمباری کے درمیان حماس کا ایک وفد جنگ بندی پر بات چیت ...
مشرق وسطی -
غزہ سے داغے گئے تین پراجیکٹائل روک لیے: اسرائیلی فوج
اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس کی فضائیہ نے ہفتے کے روز جنوبی غزہ سے اسرائیلی علاقے میں ...
مشرق وسطی -
غزہ کی پٹی کے زیادہ تر حصے شامل کرنے کے لیے آپریشن وسیع کریں گے : اسرائیلی وزیر دفاع
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے کہا ہے کہ فوجی کارروائیوں میں غزہ کے بیشتر حصے ...
مشرق وسطی