ایران کی عدلیہ نے ہفتے کے روز کہا کہ اس نے جنوب مغربی صوبے خوزستان میں مسلح حملے کا ارتکاب کرنے والے "دہشت گرد" گروپ کے چھے ارکان کو پھانسی دے دی ہے۔
عدلیہ نے اپنی ویب سائٹ میزان پر کہا، "چھے علیحدگی پسند دہشت گرد عناصر کو آج صبح کے وقت سزائے موت دی گئی ہے جنہوں نے حالیہ برسوں میں صوبہ خوزستان میں سکیورٹی کو نشانہ بنانے کے لیے سلسلہ وار مسلح کارروائیاں اور بم دھماکے کیے تھے۔"
پھانسی پانے والوں کی شناخت اور ان کی گرفتاریوں اور سزاؤں کی تفصیلات فوری طور پر واضح نہیں ہو سکیں۔
لیکن میزان نے اطلاع دی کہ وہ 2018 اور 2019 میں چار سیکورٹی اہلکاروں کے قتل میں ملوث تھے جن میں دو پولیس افسران اور بسیج پیرا ملٹری فورس کے دو ارکان شامل تھے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ انہوں نے "تخریب کاری کی کارروائیوں جیسے بم بنانے اور نصب کرنے اور خرمشہر گیس سٹیشن کو اڑانے کی منصوبہ بندی اور انجام دہی کا اعتراف کیا تھا۔"
ہفتے کے روز ایک الگ پھانسی میں حکام نے سمن محمدی کو "محاربہ" یعنی خدا سے جنگ لڑنے کے جرم میں پھانسی دے دی۔ اس پر دہشت گرد اور تکفیری گروہوں میں مبینہ رکنیت کا الزام تھا۔
محمدی کو 2013 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ مبینہ طور پر 2009 میں مغربی شہر سنندج میں نمازِ جمعہ کے امام کو قتل کرنے کے ساتھ ساتھ مسلح ڈکیتیوں اور اغوا میں ملوث تھا جس میں ایک فوجی کا قتل بھی شامل تھا۔
قبل ازیں ایران نے اسرائیل کے ایک اعلیٰ اور انتہائی مطلوب جاسوس کو سزائے موت دی تھی جسے ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں گذرا۔
-
پاکستان میں سابق سعودی سفیر نےالقاعدہ سے مقابلے اور ایرانی اثر و رسوخ سے متعلق کیا کہا؟
چار ابواب پر مشتمل کتاب میں علی عواض عسیری نے ریاض ۔ اسلام آباد تعلقات کی گہرائی ...
بين الاقوامى -
ایرانی عدلیہ زیر حراست برطانوی جوڑے کے بارے میں جلد فیصلہ سنا دے گی: ذرائع
ان کے اہل خانہ نے کہا کہ فیصلہ "سات سے 10 دنوں کے اندر" جاری کر دیا جائے گا، فوری ...
مشرق وسطی -
ایران کے وسطی حصے میں 5.3 شدت کا زلزلہ
زلزلے کے جھٹکے قم اور تہران شہر میں بھی محسوس کیے گئے
مشرق وسطی