جب امریکی ٹام براک پہلی مرتبہ 1972 میں بغیر کسی کنکشن یا ہوٹل کی بکنگ کے بیروت پہنچے تو اس نے ٹوٹی پھوٹی عربی بولی میں بات کی جو اس نے اپنے دادا دادی سے سیکھی تھی۔ وہ اپنی پہلی غیر ملکی اسائنمنٹس میں سے ایک پر ایک نوجوان وکیل تھے ۔ ایک پرجوش ٹیکسی ڈرائیور انیہں لبنان کے دورے پر لے گیا۔ اس دورے میں وہ اپنے آبائی گاؤں زہلے بھی گئے۔ اس سفر، جس نے ان کے دل میں پرانی یادوں کو جگایا، کے برسوں بعد وہ ترکیہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سفیر اور شام اور لبنان کے لیے خصوصی ایلچی کے طور پر دوبارہ بیروت واپس آئے۔
تاہم فنانشل ٹائمز کی ایک طویل رپورٹ کے مطابق اپنے دور اقتدار کے پانچ ماہ بعد ٹام براک ، جو فخر کرتے ہیں کہ ان کے پاس خطے کا ڈی این اے ہے، نے کامیابی اور تنازعات کا مرکب حاصل کیا ہے۔
ایک مشکل مشن
ٹام بارک نے اپنے مشن کی دشواری کو تسلیم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ان کا سفارتی کام معاشیات، مالیات اور کاروباری سودوں کی دنیا سے زیادہ تھکا دینے والا ہے۔ ذہنی طور پر زیادہ حوصلہ افزا اور ایک ہی وقت میں جسمانی طور پر زیادہ خوفناک ہے۔ انہوں نے یہ بھی مانا کہ امن عام لوگوں کی خواہش ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے شک ظاہر کیا کہ دنیا حقیقی معنوں میں یہی چاہتی ہے۔
اس کے باوجود براک نے اپنے معمولی خواب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے امید ہے کہ مشرق وسطیٰ اس سے تھوڑا بہتر ہو گا جتنا میں نے پایا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آخر کار زمین پر تمام عام لوگ امن چاہتے ہیں لیکن کیا واقعی کائنات یہی چاہتی ہے؟ شاید نہیں۔ ان کا یہ بیان خطے کے بارے میں ان کے مایوسی کے نقطہ نظر کی عکاسی کر رہا ہے۔
ٹام براک نے حال ہی میں دمشق میں شامی حکام اور سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن 10 مارچ 2025 کو دونوں فریقوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے باوجود وہ اب تک دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں ناکام رہے ہیں۔ لبنان کے اپنے متواتر دوروں کے دوران انہوں نے کافی تنازعات بھی پیدا کریے ہیں۔ خاص طور پر صحافیوں کے ساتھ جھڑپ کے بعد انہیں مہذب انداز میں برتاؤ کرنے کا کہا گیا۔ اس وقت اس واقعہ کو لبنانی پریس کے ساتھ نمٹنے کے لیے ایک قابل مذمت نقطہ نظر سمجھا گیا اور اس کی سرکاری مذمت کی گئی۔
اسی دوران حزب اللہ کے ہتھیاروں کو حوالے کرنے کا معاملہ اب بھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ اس معاملے پر ٹام براک نے لبنانی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ آگے بڑھے۔ شام کے صحافی اور المجلہ میگزین کے چیف ایڈیٹر ابراہیم حمیدی کے مطابق ٹام براک نے اس امکان کے بارے میں پریس رپورٹس کو جنم دیا ہے کہ شام کے لیے خصوصی ایلچی کے طور پر ان کا مشن اگلے ماہ نومبر 2025 میں ختم ہو سکتا ہے اگر وہ دمشق اور ایس ڈی ایف یا شام اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت حاصل نہیں کرتے ہیں۔
-
لبنان میں حزب اللہ کے ہتھیاروں سے متعلق پہلی تفصیلی رپورٹ تیار
وزیر مہاجرین نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اس اقدام کی اہمیت سے آگاہ کرتے ہوئے زور دیا کہ ...
مشرق وسطی -
اسرائیل لبنانی فوج اور امن مشن پر حملے روکے : یونیفل کا مطالبہ
لبنانی سرحد پر تعینات اقوام متحدہ کے امن مشن سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی ...
مشرق وسطی -
حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے سلسلے میں امریکہ کی لبنان کے لیے 23 کروڑ ڈالر کی امداد
"روئٹرز" کے مطابق امداد میں 19 کروڑ ڈالر لبنانی فوج اور 4 کروڑ ڈالر داخلی سیکیورٹی ...
بين الاقوامى